کارگل میں مارے گئے بھارتی فوجیوں کی بیواؤں کے ساتھ افسران نے کی زیادتی

0
159
kargil

کارگل میں مارے جانیوالے بھارتی فوجیوں کی بیواؤں کی عزتیں بھی محفوظ نہ رہیں، افسران بھارتی فوج کے مارے گئے اہلکاروں کی بیویوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے، بھارتی میڈیا نے سب کچھ بے نقاب کر دیا،

بھارتی خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا میں رپورٹ شائع ہوئی جس کی سرخی نکالی گئی کہ "ہم کارگل کی بیوائیں "افسران کی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے آسان ہدف تھیں” جمعرات 27 جون کو ٹائمز آف انڈیا نے رپورٹ شائع کی جس میں یہ کہا گیا کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران مارے گئے بھارتی فوج کے اہلکاروں کی بیواؤں کے ساتھ افسران جنسی ہوس مٹاتے رہے، انہیں ہراساں کرتے رہے، کارگل جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی بیواؤں کو کسی نہ کسی طرح بھارتی فوج کے افسران نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے شکار بنایا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اندو سنگھ نامی 60 سالہ خاتون کو کئی سالوں تک سرکاری دفاتر میں ہراساں کیے جانے اور ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑا،وہ کارگل جنگ میں مارے جانے والے بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے انسپکٹر اندرجیت سنگھ کی بیوہ ہیں۔ سنگھ نے بتایا کہ میرٹھ میں ایک سرکاری افسر نے جنسی ہوس کی وجہ سے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ،خاتون اندو سنگھ کی درخواست پر اس وقت ایل کے اڈوانی کی مداخلت کے بعد سرکاری افسر کو معطل کر دیا گیا تھا،

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق "افسر کو ان کے متعلقہ گاؤں میں شہداء کی یادگاروں کی تعمیر کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی نگرانی کا کام دیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ الاٹمنٹ کے سلسلے میں کچھ مدد کے لیے اس کے سامنے بیٹھی تھی تو افسر نے اسے اپنے پیروں سے بھی چھوا،”افسر کے نامناسب اقدامات اور دیگر جنگی بیواؤں سے افسران کی بدتمیزی کے رویے کی کہانیاں سننے کے بعد، اندو کا کہنا ہے کہ اس نے 2001 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ افسر کے خلاف شکایت کی جا سکے۔

اندو سنگھ نے ایک اور واقعہ بھی سنایا جہاں سرکاری لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے ایک افسر نے اس کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔اندو کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر میں افسران کی طرف سے جنسی خواہش کا اظہار، دوہرے معنی والی باتیں، بیواؤں کو اپنے پاس بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا تھا ،اندو سنگھ کا کہنا تھا کہ میں پڑھی لکھی تھی اور ہر موقع پر اس عمل پر اعتراض کیا گیا تھا، لیکن نوجوان بیواؤں کی اکثریت، جو ناخواندہ تھیں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں،انہیں ہراساں کیا گیا اور انکے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی،اندو سنگھ کے مطابق، سرکاری افسران بیواؤں کو "آسان ہدف” سمجھتے تھے۔ اس نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا، "میں نے بیوہ ہونے کے ابتدائی دنوں میں اخلاقیات کی مکمل گراوٹ دیکھی۔”

بچے سے بدفعلی،مولانا کی رہائی کیخلاف پولیس کا عدالت جانےکا فیصلہ

بچے سے بدفعلی کی کوشش، غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،پولیس

اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

چکوال،مدرسے کے دو اساتذہ کی 15 طلبا کے ساتھ بدفعلی

معروف مدرسے کے مہتمم کی طالب علم کے ساتھ زیادتی 

ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

Leave a reply