ورلڈ ہیڈر ایڈ

بھارتی فوج کی بربریت، کشمیری نوجوان شہید،25 روز سے کرفیو،کشمیری گھروں میں محصور

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت جاری جاری، سوپور میں کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے بہانے بارہمولا کے علاقے سوپور میں کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا، سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے چادر و چاردیوای کے تقدس کو بھی پامال کیا، اس دوران کشمیریوں نے احتجاج کیا تو ان پر پیلٹ برسائے گئے جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے،

مقبوضہ کشمیر میں 25 ویں روز بھی کرفیو کو برقرار ہے، بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کی نسل کشی کے نئے انتظامات کرلئے۔ سرینگر میں دو درجن سے زائد نئے بنکرز اور مورچے قائم کر کے مزید شارپ شوٹرز تعینات کر دئیے گئے۔پوری وادی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، ہر گلی، سڑک، شاہراہ پرقابض فوجیوں کی موجودگی باوجود کشمیری شہریوں نے زبردست احتجاج کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔

کیبل، ٹی وی، موبائل فون، لینڈ لائن سمیت دیگر سروسز تاحال بند ہیں۔ اخبارات 5 اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئے، تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، مریضوں کو ادویات نہیں مل رہی، میڈیکل سٹورز پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، غذائی بحران بھی سر اٹھا رہا ہے جس کے بعد کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

ایک کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ میں نماز پڑھ کر آ رہا تھا کہ بھارتی فوجی نے مجھ پر تین بار پیلٹ گنز چلائی، جس کی وجہ میں شدید زخمی ہو گیا اور لوگ مجھے ہسپتال لے کر گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود ہسپتال جانے کے لیے مجھے دس بار روکا گیا۔

کرفیو توڑ کر باہر نکلنے والے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چھ سالہ بچی والد کے ساتھ بائیک پر گئی تو اسے بھی پیلٹ گن سے نشانہ بنایاگیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے گھروں میں قید کشمیری محنت کش بھی بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے مودی سرکار کے مظالم بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی فوج چادراور چارد یواری کا تقدس پامال کرنے لگی۔ نوجوان نہ ملنے پر اس کے والد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ گرفتار افراد کو لکھنو، بریلی اور آگرہ کی جیلوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے

کشمیر کے چپے چپے پر مسلح بھارتی فوج تعینات ہے جو گھروں سے نکلنے والے کشمیریوں کو گرفتار کر رہی ہے ،احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر پیلٹ برسائے جاتے ہیں،سرینگر کے پائین شہر سمیت تمام علاقوں میں بھاری تعداد میں بھارتی فوج کے مسلح اہلکار تعینات ہیں۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد کو 25 روز سے تالا لگا ہوا ہے، کسی کو بھی اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ اس تاریخی مسجد کے باہر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات ہے جو کسی بھی فوٹو یا ویڈیو جرنلسٹ کو مسجد کی تصویر لینے یا ویڈیو بنانے سے منع کر دیتے ہیں. میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کے اہلکاروں نے ایک صحافی کو بتایا کہ انہیں ہدایت ملی ہے کہ کسی بھی صحافی کو مسجد کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں دینی،

مودی سرکار نےتمام حریت قائدین، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر رکھا ہے،احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے. اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.