بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

بھارتی حکومت نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لئے پاکستان آنے والے سکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا ہے اور انہیں آخری لمحات میں پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ ساکہ ننکانہ صاحب کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے مختلف شہروں سے 600 سکھوں کا جتھہ آج واہگہ کے راستے پاکستان آرہا تھا۔ 17 فروری کی شام کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے امرتسر شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور بھیگووال کے نام لکھے گئے متضاد دعووں سے بھر پور خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان جانے والے بھارتی شہریوں کی جان کو خطرہ ہے اور اس بارے میں بھارتی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں جس کے پیش نظر حکومت 600 بھارتی شہریوں کی جان داو پر نہیں لگا سکتی۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پاک بھارت سرحد بند ہے جو اس وقت کھولنا مناسب نہیں اس لئے بھارتی حکومت سکھوں کے جتھے کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے بھارتی حکومت کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کورکا کہنا ہے کہ ان کی اپنی حکومت نے سکھوں کے ساتھ دھوکا کیا یے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی اس حرکت سےسکھوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت کا سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور ہتکھنڈا سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ جتھے کوپاکستان آنے سے روکنا انتہائی ماہوس کن ہے۔ مختلف ریاستوں سے یاتری شری دربارصاحب امرتسرپہنچ چکے ہیں اور آج انہوں نے بارڈرکراس کرنا تھا لیکن بدھ کی شام کو بھارت کی ہوم منسٹری کی طرف سے پیٍغام آگیا کہ یاتری پاکستان نہیں جاسکتے.

انہوں نے کہا کہ نومبر میں یاتری پاکستان گئے تھے اس وقت سیکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں تھا جب کہ کورونا کے باوجود اٹاری بارڈر بھی کھولا گیا لیکن اس وقت جب کہ ساکہ ننکانہ صاحب کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنیوالے 730 بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کی طرف سے ویزے جاری کیے گئے انہیں روکنا مناسب نہیں۔ بی بی جاگیرکور کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں نے مکمل تیاری کرلی تھی لیکن اب ہماری ہی حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے 27 لاکھ روپے سے 20 بسوں کی بکنگ کروائی گئی تھی جب کہ آج واہگہ بارڈر پر بھرپور استقبال کیا جانا تھا لیکن بھارتی حکومت نے آخری وقت پر سکھ یاتریوں کوپاکستان آنے سے روکنے سے تمام انتظامات دھرے رہ گئے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری سردار امیر سنگھ نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرکار کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے ساتھ دشمنی کھل کرسامنے آرہی ہے۔ شری اکال تخت صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ساکہ ننکانہ صاحب پوری دنیا میں بسنے والے سکھوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.