fbpx

بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف آفیسر کی زائدالمیعاد پاسپورٹ پر بھارت جانے کی کوشش ناکام

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اسٹاف آفیسر کو واہگہ بارڈر پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ بھارت جارہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے گرے پاسپورٹ کا حامل 35 سالہ اسٹاف آفیسر سکھبیر آریا جو کہ ہریانہ کا رہائشی ہے اور پاکستان میں اپنی سروس کی میعاد مکمل کرنے کے بعد اپنی روانگی کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام کو بھی اطلاع کر چکا تھا۔

پاکستان سے واپس بھارت جانے کے لئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ تقریبا 11 بجے صبح واہگہ بارڈر امیگریشن کاونٹر پر پہنچا جہاں پاکستانی مستعد عملے نے اس کے پاسپورٹ نمبر 01486579 کودیکھا تو اس کی میعاد 7 جولائی کو ختم ہو چکی تھی جس پر اسے واہگہ بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس بارے میں فوری طور پراسلام آباد میں دفتر خارجہ کے اعلی حکام کو اطلاع کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق دفترخارجہ کے حکام نے سکھبیر آریاکوواپس اسلام آبادبھیجنے کے احکامات جاری کردئے تاہم اس دوران بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور سکھبیرکو نیا پاسپورٹ جاری کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد اسے واہگہ بارڈر پر رکنے کی اجازت دے دی گئی۔ اسلام آباد سے بھارتی ہائی کمیشن کی سپیشل گاڑی میں سکھبیر کا نیا پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات واہگہ بارڈر بھجوانے کے انتظامات کئے گئے جو شام کو ساڑھے چھ بجے واہگہ بارڈر پہنچے جہاں اس کی امیگریشن کی گئی اور تقریبا سات بجے اسے بھارت روانہ کردیا گیا۔

سکھبیر8 گھنٹے سے زائد واہگہ امیگریشن ہال میں موجود رہا۔ اس دوران واہگہ بارڈر پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جب کہ تمام عملہ مکمل طور پر چوکس رہا۔ اس حوالے سے سکھبیر سے جب باغی ٹی وی نے بات کی تو اس نے بتایا کہ وہ چھ ماہ قبل بھارت گیا تھا جب کہ اس کے بعد اس کویاد نہیں رہا کہ اس کے پاسپورٹ کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے۔

اس سلسلے میں نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ہائی کمیشن کے متعلقہ حکام کی سخت سرزنش کی گئی ہے جب کہ کچھ لوگوں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر کسی بھارتی سفارتی عملے کا بھارت جانے کی کوشش کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو واہگہ پاک بھارت سرحد پر پیش آیا ہے۔