ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ کشمیر,مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جبر وظلم کا 32 واں روز

سری نگر : بھارتی مظالم ابھی رکے نہیں ، تھمے نہیں‌، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جبر کا آج 32 واں روز ہے، مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں، کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئیں، ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل ایک ماہ کے کرفیو سے زندگی عذاب بن گئی، سری نگر سمیت تمام بڑوں شہروں میں جگہ جگہ بھارتی فوج دندنا رہی ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سرینگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے۔

سرینگر کے میئر جنید اعظم مٹو کا کہنا تھا کہ بہت بڑی حقیت ہے کہ موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی ہے، انٹرنیٹ بند ہے، ڈائلسز کو مشکلات کا سامنا ہے، لوگوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں، بالکل غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی کہے کہ صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ وادی یہی کچھ جاری رہا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر پہنچتے ہی میئر جنید اعظم مٹو کو گرفتار کر لیا گیا اور گھر پر ہی نظر بند کیا گیا ہے۔

دریں اثناء جرمن میڈیا نے کشمیر کی اندرنی صور تحال دنیا کو دیکھا دی، جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو سے بات کرت ہوئے کشمیری ریسرچر نے بھارتی فوجیوں کی حرکتوں کو بے نقاب کر دیا۔

دوسری طرف کشمیری ریسرچر ارشی قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیری خواتین خوف و ہراس میں رہ رہی ہے، ہر جگہ خوف کو ماحول ہے، بھارتی فورسز انہیں ہراساں کرتی ہیں، آپ باہر نہیں جا سکتی۔

کشمیری ریسرچر ارشی قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیری خواتین کو آسانی سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، دیہاتی علاقوں میں خوف زیادہ ہے، آرمی کے بندے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو لوہے سے مارتے ہیں، گھر دور دور ہونے کی وجہ لوگ تشدد کی آواز بھی نہیں سن سکتے اور نا ہی ان کی مدد کے لیے کوئی آتا ہے کہ وہ آرمی کو گھروں کو نکالے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ، دوسری طرف بھارتی خبر ایجنسی دی وائر نے بھی مقبوضہ وادی کی اصل صورتحال بے نقاب کر دی، کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ شہریوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو رہا ہے

بھارتی افواج کے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ بھارت جب چاہے دروازہ کھول کر ہمیں چارا ڈالتا ہے جب چاہے پھر بند کردیتا ہے، کشمیریوں کو 50 سال سے ترقی کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک کشمیری لڑکی کا کہنا تھا کہ ہم نے بندوق، کرفیو، ہڑتال اور پتھراؤ کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا، وادی کے حالات کی وجہ سے 3 سالہ گریجویشن ساڑھے چار سالوں میں کی، نوجوان شدید دلبرداشتہ ہیں، دل چاہتا ہے کہ پڑھائی چھوڑ دیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لوگوں کو در بدر پھرتا دیکھ کرجراتمند کشمیری خاتون پی سی او کے بزنس سے مفت کالز کراتی ہے، لوگ پچاس کلومیٹر دور سے فون کرنے آتے ہیں، بھارت کے خلاف عوامی غصہ دن بدن بڑھ رہا ہے، پیسے ختم ہونے کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر اپنا زیور تک بیچنے پر مجبور ہوئی۔

کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

سرینگر کے میئر جنید اعظم مٹو نے کہا بہت بڑی حقیت ہے کہ موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی ہے، انٹرنیٹ بند ہے، ڈائلسز کے مریض ہیں، لوگوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، وہاں پر حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں، یہ بالکل غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی کہے کہ صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا وادی یہی کچھ جاری رہا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں‌ کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں‌ نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔

کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔کشمیری نوجوانوں نے بھارتی سامراج کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے مظاہرے کیے، ہزاروں نوجوانوں نے آزادی ریلیاں نکالیں جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے فائر کیے۔

کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مقبوضہ وادی سے ذرائع کے مطابق وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے، طالبعلم سکول سے غیر حاضر ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو اور پابندیوں کے باجود آج نماز جمعہ کے بعد کشمیری مظاہروں کے لیے باہر نکلیں گے، بھارتی فوج کے خلاف زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

قابض فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں بارہمولا میں ایک نوجوان کو شہید کر دیا۔ 5 اگست سے اب تک 570 سے زائد چھوٹے بڑے مظاہرے ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، حکومتی اہلکار کے مطابق اب تک 50افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.