بھارت میں ظلم کی انتہا، تہاڑ جیل میں مسلم قیدی کی پیٹھ پر گرم لوہے سے ہندوؤں کا مذہبی نشان بنا دیا گیا

بھارت میں ظلم کی انتہا، تہاڑ جیل میں قیدی کی پیٹھ پر گرم لوہے سے ہندوؤں کا مذہبی نشان بنا دیا گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کوئی نئی بات نہیں، جب سے مودی برسراقتدار آئے ہیں مسلمانوں‌ پر مظالم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

بھارت میں ہندو انتہا پسند نہ صرف مسلمانوں پر مظالم کرتے ہیں بلکہ جیلوں میں قید مسلمانوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پیش آیا جہاں تہاڑ جیل میں ایک مسلمان قیدی پر شدید تشدد کیا گیا اور اسکے جسم پر گرم لوہے سے ہندوؤن کا نشان اوم کا نشان بنایا گیا اور اسے کھانا دینے سے بھی انکار کر دیا گیا

تہاڑ جیل میں قید شبیر نامی قیدی کو جیل حکام نے مسلمان ہونے کی وجہ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے کہا گیا کہ مسلمانوں نے بھارت کو تباہ کر دیا ہے ہم مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے،شبیر کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے جیل حکام کو کہا تھا کہ جیل میں چولہا کا مسئلہ ہے اس کو صحیح کروا دیں جس کو بنیاد بنا کر اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا.

34 سالہ شبیر 2017 سے تہاڑ جیل میں قید ہے، 17 اپریل کو اسے عدالت میں پیش کیا گیا ،عدالت میں اس کے والد نے جج سے استدعا کی کہ جیل میں اسکے بیٹے کی جان کو خطرہ ہے، اور جیل حکام کی جانب سے کئے جانے والے مظالم کے حوالہ سے عدالت کو آگاہ کیا جس پر عدالت نے شبیر کے میڈیکل کا حکم دیا اور جیل کے سپریڈنڈنٹ کو ہٹانے کا حکم بھی دیا

عدالت نے واقعہ کی تحقیقات اور دوسرے قیدیوں کے بیانات کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا بھی حکم دیا ۔ ڈی جی تہاڑ جیل اجئے کیشپ کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی کی جانب سے اس کیس کی انکوائری کی جارہی ہے ۔ عدالت کے حکم کے مطابق شبیر کو دوسری جیل منتقل کردیا گیا ہے، تحقیقات مکمل ہونے پر رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی ۔شبیر پر دیسی ساختہ ہتھیار رکھنے کا الزام ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.