سخت ترین سردی:بھارت مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف دھکیلنے لگا

0
43

نئی دہلی :سخت ترین سردی میں‌ بھارت مسلمانوں بنگلہ دیش کی طرف دھکیل رہا ہے؛ بنگلادیش نے سرحد پر موبائل سروس بند کردی،اطلاعات کےمطابق بنگلادیش نے بھارت سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی وجوہات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کردی۔

باغی ٹی وی کےمطابق بھارت اتنی سخت سردی میں مسلمانوں کودھکیل کربنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیلنا چاہتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مسلمان خاندان اپنے بیوی بچوں کےساتھ ننگے آسمان کے نیچے برف باری سہتے ہوئے کبھی کہاں پڑاوں ڈالتے ہیں تو کبھی کہاں پڑاوڈالتے ہیں‌،

باغی ٹی وی کےمطابق ان حالات کے پیش نظر بنگلادیش کے ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے ترجمان کے مطابق بھارت سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی وجوہات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کی گئی ہے۔

بنگلا دیش اور بھارت کی سرحد 4 ہزار کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے، حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں رہنے والے صارفین موبائل انٹرنیٹ، کالنگ اور دیگر سروسز استعمال نہیں کر سکیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلادیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس پابندی کے باعث تقریباً ایک کروڑ افراد متاثر ہوں گے۔

ٹیلی کمیونیکیشن افسر کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے یہ فیصلہ بھارت میں متنازع شہریت کا قانون منظور ہونے کے باعث کیا گیا کیونکہ اس قانون کے بعد بھارت سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی بنگلادیش کی جانب نقل مکانی کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب بنگلادیشی وزیر داخلہ اسدالزمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت سے بے دخل کیے گئے متعدد افراد کی بنگلا دیش میں داخلے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا ہے۔ایک طرف بھارت مسلمانوں کو سخت سردی کی ٹھنڈی راتوں میں بے گھرکرکے بے وطن کرکے سرحدوں کی طرف دھکیل رہےہیں‌تو دوسری طرف بنگلادیش کی حکومت نے منہ موڑ لیا ہے

بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں بھارت سے بنگلا دیش داخل ہونے والے سیکڑوں افراد کو بارڈر سیکیورٹی گارڈز نے حراست میں لیا۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمانوں سے تعصب پر مبنی اس قانون کے خلاف احتجاج میں اب تک 27 سے زائد افراد ہلاک جب کہ سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ماہ منظور کیے گئے اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارتی پولیس مسلمانوں کویہ دھمکیاں دیتے ہوئے کہہ رہےہیں کہ اگرتم مسلمان ہی رہنا چاہتے ہو تو یا پھر پاکستان چلے جاو یا پھر بنگلہ دیش چلے ،تمھارے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے

اس سے قبل نیشنل رجسٹر سٹیزن ( این آر سی) میں شہریوں کی رجسٹریشن کی آڑ میں بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو شہریت سے محروم کیا جاچکا ہے اور ان افراد میں اکثریت بنگلا دیش سے آنے والے مسلمانوں کی ہے جو کہ بہتر روزگار کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے آسام میں آباد ہیں۔

Leave a reply