انڈین پارلیمنٹ نے ہندوستانی ایجنسی کو مزید اختیارات دے دیے، کشمیر میں بھارتی دہشت گردی بڑھنے کا خدشہ

بھارتی لوک سبھا میں ہندوستانی ایجنسی این آئی اے کو مزید اختیارات دیے جانے سے متعلق ترمیمی بل کو منظور کر لیا گیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ترمیمی بل کے بعد ہندوستانی تحقیقاتی ایجنسی کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے، بل پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے انڈیا کے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بل کے قانون بننے کے بعد قانون کے غلط استعمال سے متعلق ارکان کے خدشات کو عبث قرار دیتے ہوئے کہاکہ مجوزہ قانون کا غلط استعمال ان کی حکومت قطعی نہیں ہونے دے گی،

بھارتی لوک سبھا میں یہ بل وزیر مملکت امور داخلہ جی کشن ریڈی نے پیش کیا. اس موقع پر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاکہ بھارتی حکومت نے عسکریت پسندی کیخلاف زیرو ٹالرنس کا تہیہ کر رکھا ہے اسی لئے قانون سازی ملک کے مفاد میں ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اب این آئی اے کو نام نہاد دہشت گردی ، ملک مخالف سرگرمیوں‌ ، انسانی اسمگلنگ، اور سائبر جرائم کی بیرون ملک جاکر تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہو گا، وزیر مملکت نے کہا کہ اس کو منظوری ملنے سے این آئی اے کو مضبوطی ملے گی ،دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق معاملات کی وہ بیرون ملک جاکر تحقیقات کر سکے گی،

واضح رہے کہ این آئی اے کو اس وقت جو اختیارات دیے جارہے ہیں اور جس قانون کی منظوری دی گئی ہے اس کے تحت نام نہاد دہشت گردی کے واقعات کو نمٹانے کے لئے خصوصی عدالتیں اور علیحدہ ججوں کی تقرری کا التزام ہے اور اس کے لئے ججوں کی تقرری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے کی جائے گی ۔ بھارتی وزارت داخلہ کا بھی کہنا ہے کہ عام عدالتوں میں معاملات طویل عرصہ تک زیر التوا رہتے ہیں اس لئے ملک کی سیکورٹی اور قانون مخالف سرگرمیوں سے منسلک مستعد طریقے سے نمٹنے میں یہ قانون مفید ثابت ہوگا.

واضح‌ رہے کہ انڈیا این آئی اے کو کشمیر میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کئی حریت لیڈروں‌ کو گرفتار کر کے انڈیا کی جیلوں‌میں‌ ڈال دیا گیا ہے. اب اسے مزید اختیارات دیے گئے ہیں اور وادی کشمیر او رجموں‌میں بھی این آئی اے کو دفتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے. اس سے کشمیر میں گرفتاریوں‌ اور بھارتی دہشت گردی کے واقعات مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.