fbpx

بھارتی فوجیوں نے 2021 میں 210 کشمیریوں کو شہید کیا:مگرعالمی ضمیرپھربھی نہ جاگ سکا

سرینگر:بھارتی فوجیوں نے 2021 میں 210 کشمیریوں کو شہید کیا:مگرعالمی ضمیرپھربھی نہ جاگ سکا ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں سال 2021 کے دوران پانچ خواتین اور پانچ کم عمر لڑکوں سمیت 210 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ان میں سے 65 افراد کو فرضی مقابلوں اور زیرحراست شہید کیا گیا۔ کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے ہر دل عزیز رہنما سید علی گیلانی بھی مسلسل نظر بندی کے دوران انتقال کر گئے۔ حکام نے بزرگ رہنما کے اہلخانہ کو ہراساں کیا اور لوگوں کو ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی بھی بھارتی پولیس کی حراست میں انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کے ہاتھوں ان شہادتوں کے نتیجے میں 16 خواتین بیوہ اور 44 بچے یتیم ہوئے جبکہ گزشہ برس باوردی بھارتی اہلکاروں نے 13 خواتین کو بدسلوکی یا بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے 67 رہائشی مکانوں اور دیگر عمارات کو تباہ کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 487 افراد زخمی ہوئے جب کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گھروں پر چھاپوں اور کریک ڈاو¿ن آپریشنز کے دوران حریت کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز، طلباءاور نوجوان لڑکوں سمیت 2ہزار 7سو 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کئی افراد کو کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام سے متعلق قانون یو اے پی اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔بھارتی حکام نے مقبوضہ علاقے میں محرم کے جلوسوں اور عید میلاد النبی ؑﷺ کے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کے علاوہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں 45 ہفتوں تک لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی رہنما کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام اور فاروق احمد ڈار بدستور فرضی مقدمات میں دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، محمد رفیق گنائی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، مجاہد صحرائی، راشد صحرائی ، ظہور احمد بٹ، شوکت حکیم، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، حیات احمد بٹ، فیروز احمد ڈار، محمد اسلم وانی، شاہد یوسف، شکیل یوسف، فیروز احمد، غلام محمد بٹ، خورشید احمد بٹ، جنید احمد لون، تاجر، ظہور وٹالی، صحافی آصف سلطان اور پی ایچ ڈی کے طالب علم الطاف احمد خان سمیت حریت رہنماﺅں، کارکنوں اور نوجوانوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیری کالے قوانین پبلک سیفٹی اور یو اے پی اے کے تحت مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف دسمبر 2021 کے مہینے میں بھارتی فوجیوں نے 31 کشمیریوں کو شہید کیا۔ ان شہادتوں سے ایک خاتون بیوہ اور دو بچے یتیم ہو گئے۔ پرامن مظاہرین کے خلاف فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے جبکہ نوجوانوں سمیت 94 شہریوں کو ایک ماہ میں گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں نے اس عرصے کے دوران 11 رہائشی مکانات کو تباہ کیا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے5اگست2019کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک بھارتی فورسز اہلکاروں نے 5سو15کشمیریوںکو شہید کیا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 33برس کے دوران 95ہزار9سو48کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!