fbpx

بھارتی وزیرکی گاڑی نے چار کسانوں کو کچل دیا،احتجاج کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی بھی گرفتاریاں

بھارتی وزیرکی گاڑی نے چار کسانوں کو کچل دیا،احتجاج کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی بھی گرفتاریاں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کے خلاف کسانوں کی جاری تحریک میں مزید تیزی آ گئی ہے،

کسانوں کے احتجاج کے دوران 9 افراد کی موت ہو گئی ہے،ایک صحافی بھی احتجاج کے دوران چل بسا، حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں سمیت دیگر کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں،بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش میں کسانوں کے احتجاج کے دوران بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا کے قافلے کی گاڑی مظاہرین پر چڑھ دوڑی جس سے 4 کسان ہلاک ہو گئے مقامی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے کار کو آگ لگائی جس سے کار میں موجود 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کے حوالے سے جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا کا کہنا ہے کہ گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہو کر مظاہرین پر چڑھ گئی حادثے کے وقت گاڑی میں اگر میرا بیٹا بھی موجود ہوتا تو مظاہرین اسے بھی زندہ نہ چھوڑتے

واقعہ میں ایک صحافی کی موت بھی ہوئی ہے، رام کشیپ نامی مقامی صحافی کے انتقال کی تصدیق ہوگئی ہے رام کشیپ کے گھر والوں نے اس کی لاش کو پہچان لیا ہےرام کشیپ کل تشدد کے بعد سے لاپتہ تھا ،لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے بعد احتجاج میں مزید شدت آئی ہے، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو مرنے والے کسانوں کے اہل خانہ سے ملنے کے لئے جانے سے روکا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنی بہن اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی گرفتاری کے بعد کہا کہ پرینکا، میں جانتاہوں تم پیچھے نہیں ہٹوگی تمہاری ہمت سے وہ ڈر گئے ہیں انصاف کے لئے اس عدم تشدد کی لڑائی میں ہم ملک کے ان کسانوں‌ کو فتح دلوا کر رہیں گے

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پرسماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے زبردست احتجاج کیا۔ اس سے پہلے اکھلیش یادو لکھیم پور کھیری جانے سے روکنے کے بعد لکھنو میں اپنے گھر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔

بھارت میں گزشتہ دس ماہ سے کسان سراپا احتجاج ہیں، کئی بار کسانوں سے حکومت مذاکرات کر چکی تا ہم حکومت اور کسان اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں کوئی بھی اپنے موقف میں لچک نہیں دکھا رہا، کسانوں کا مطالبہ ہے کہ تینوں قوانین کو حکومت واپس لے جبکہ حکومت کسی بھی قانون کو واپس لینے کو تیار نہیں ،

احتجاج میں حصہ کیوں لیا؟ مودی سرکار کا غیر ملکی طالبعلم کیخلاف انتہائی اقدام

متنازعہ شہریت بل، دلہن نے بھی کیا مودی سرکار کے خلاف احتجاج

متنازعہ شہریت بل، بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمے درج

متنازعہ شہریت بل احتجاج، بھارتی پولیس نے درندگی کی سب حدیں عبور کر لیں، طلبا کو برہنہ کر کے……..

مودی کے باپ کا ہندوستان تھوڑا ہی ہے؟ برقع پوش خواتین کا دیو بند میں مودی سرکار کو چیلنج

بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والے 72 سالہ حامد نے سنائی افسوسناک داستان

متنازعہ شہریت ایکٹ، احتجاج پر ایک اور غیر ملکی کو بھارت چھوڑنے کا حکم

بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

مودی کیخلاف کسانوں کی تحریک میں تیزی، آج ہو گا تاریخ”بھارت بند”

حکومت کے خلاف احتجاج ،وزیراعلیٰ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

کسانوں کا بھارت بند، ٹرین روک دی ،احتجاج جاری

مودی سرکار کی طرف سے پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے تین زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تحریک کو پنجاب اور ہریانہ کے بعد اتر پردیش کے کسانوں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور متعدد ریاستوں کے کسانوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں سے حکومت کی کئی دور کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ اب گاؤں گاؤں میں احتجاج کی آگ پھیل رہی ہے اور لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں کسان دہلی جا کر احتجاج میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔