انڈس واٹر کمیشن اجلاس منعقد کرنے کا معاملہ: بھارت نے پاکستانی تجاویز مسترد کردیں

بھارت کے ساتھ سندھ آبی معاہدے کے تحت زیر التواء امور پر تبادلہ خیال کے لئے پاکستان کی درخواست پر مارچ کے آخری ہفتے میں ایک اجلاس طے کیا گیا تھا لیکن بھارت نے موجودہ وبائی بیماری کورونا کی وجہ سے اجلاس موخر کر دیا اور پاکستان کواس سلسلے میں تحریری طور پر آگاہ کردیا۔ بھارت نےپاکستان کو تجویز دی ہے کہ انڈس آبی معاہدے کے تحت زیر التوا معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے کورونا وائرس وبائی بیماری کے پیش نظر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات کی جائے تاہم پاکستانی انڈس کمشنر نے بھارت کو بھیجے گئے اپنے جوابی خط میں تجویز دی کہ واہگہ اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر روایتی اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے تاہم بھارت نے پاکستان کی اس تجویز کو بھی مسترد کردیا۔ انڈس کمشنر آف انڈیا نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک خط میں کہا ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر اجلاس منعقد کرنا مناسب نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سفر دوبارہ شروع کرنے اور صورتحال کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ہندوستانی کمشنر نے جولائی کے پہلے ہفتے میں ویڈیو کانفرنس یا کسی متبادل ذرائع سے اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
ہندوستانی کمشنر نے جواب دیا کہ ہندوستان میں صورتحال ابھی بھی اپنے وفد کے سفر اور اٹاری جے سی پی میں اجلاس کے انعقاد کے لئے موزوں نہیں ہے جیسا کہ ان کے ہم منصب نے تجویز کیا تھا اور اٹاری جے سی پی یا نئی دہلی میں اس طرح کی میٹنگ کی اجازت دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ بھارتی انڈس کمشنر نے پاکستان سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ زیر التواء اور نئے امور پر تبادلہ خیال کے لئے ورچوئل میٹنگ کے ایک قابل عمل آپشن کے طور پر غور کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.