انڈسٹری کو 25برس کا طویل عرصہ دینے کے بعد اب تھک چکی ہوں مہرین جبار

اچھوتی کہانیوں اور مختلف موضوعات پر کام کرنا ہی مہرین جبار کو دوسرے ہدایت کاروں اور فلم سازوں سے منفرد بناتا ہے ہدایت کار و فلم ساز مہرین جبار کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو 25برس کا طویل عرصہ دینے کے بعد اب تھک چکی ہیں۔

باغی ٹی وی : مہرین جبار نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ وہ ڈراموں میں کہانی مختلف انداز میں بیان کرنے کی قائل ہیں بلاوجہ کہانی کو بڑھانا انہیں پسند نہیں ڈرامے کو طویل کرنے سے کہانی کمزور پڑ جاتی ہے۔

مہرین جبار نے انٹرویو میں غیر ضروری طور پر ڈراموں کو بڑھانے کے ٹی وی چینل مالکان کے ایک ناخوشگوار تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ تین سال قبل 2017 میں انہوں نے ایک ڈرامے کی ہدایات دی تھیں جو 24 قسطوں پر مشتمل تھا۔

مدیحہ امام نے خواتین پر شادی کے لیے دباؤ کو پاکستانی سماج کی حقیقت قرار دیا

انہوں نے بتایا کہ ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے اشتہارات کی مد میں کمائی کرنے کی غرض سے اسے بڑھا کر 30 قسطوں تک کردیا اور فضول میں ڈراموں میں فلیش بیک اور جذباتی مناظر شامل کردیئے جاتے ہیں۔

مہرین جبار نے کہا کہ ایسے ہی عمل کی وجہ سے غیر ضروری اور جاہلانہ کہانیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ڈرامے کا معیار بھی گرتا ہے لیکن ٹی وی انتظامیہ اپنی ریٹنگ کے چکر میں یہ سب کچھ کرتی ہے۔

پاکستانی فنکار جن کا ماننا ہے کہ ایوارڈز قابلیت پر نہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے…

مہرین جبار نےانٹر ویو میں اداکاروں کے رویوں پر بھی بات کی اور کہا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک اداکار ڈرامے کے سیٹ پر دوپہر ایک بجے سے پہلے نہیں پہنچتا اور پوری ٹیم اس کا انتظار کرتی رہتی ہے۔

انہوں نے اداکاروں کے ایسے رویوں کو باقی پوری ٹیم کی بے عزتی بھی قرار دیا اور کہا کہ اوپر سے ٹی وی چینلز مالکان کا ٹیم پر دباؤ رہتا ہے کہ وہ وقت پر انہیں منصوبے پیش کریں۔

موجودہ دور کے ڈرامے چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گئے ہیں ساجد حسن

مہرین نے انٹرویو کے دوران نئے باصلاحیت فنکاروں کی تعریف بھی کی انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں اس وقت بہت سے ایسے باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو وقت کے پابند اور ٹیم کے دوسرے لوگوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

مہرین نے کہا کہ ایسے رویوں کی وجہ سے ہی ویب سیریز پر کام کرنے کا آپشن بہترین ہے کیونکہ اس میں مواد نشر کرنے والوں کی سختی بھی نہیں ہوتی جب کہ ایسے منصوبوں پر کام کرنے والے ہدایت کار کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہوتا ہے کہ وہ معروف اداکاروں کے بجائے ایسے اداکاروں کو منتخب کرے جو وقت کے پابند ہونے سمیت اچھی اداکاری کر سکیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ویب سیریز بے جا پابندیوں سے بھی آزاد ہوتی ہیں اور ان میں کچھ بولڈ مواد دکھانے کی اجازت بھی ہوتی ہے۔

مواد پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے پیمرا کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے مہرین جبار

واضح رہے کہ اس سے قبل مہرین جبار نے اپنے ایک انٹرویو میں پیمرا کے حوالے سے کہا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بلکل غلط ہوتی ہے ہمارے ہاں کسی ایک شخص کو اگر کوئی چیز غلط لگ جاتی ہے تو پابندی لگائی جاتی ہے جب کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے کا ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔

مہرین جبار نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا تھا کہ حال ہی میں پیمرا نے کچھ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی عائد کرکے پھر اس پابندی کو ہٹا لیا تھا انہوں نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں-

ایک سوال کے جواب میں مہرین جبار کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ عمل درست نہیں وہ بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہیں کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔

مہرین جبار کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے انہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کا مسئلہ سینسر بورڈ نہیں ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.