fbpx

آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی: مفتاح اسماعیل

لاہور:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی شبہ نہیں آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی، حکومت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، مشکل وقت میں امیر طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے، سپر ٹیکس کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، چار سے پانچ ماہ میں حالات بہتر ہوجائیں گے،اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ بھی وقتی ہے، اسی ماہ انڈیکس اوپر جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد چیزیں بہترہوجائیں گی۔

ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایگری کلچر انکم پر ٹیکس ہونا چاہیے، پٹرول، ڈیزل پر ایک روپیہ ٹیکس نہیں لے رہے، 120 ارب روپے پٹرول پر نقصان ہو رہا تھا، چند مخصوص کمپنیوں نے پچھلے سالوں میں بہت پیسے کمائے، کار، سگریٹ انڈسٹریز نے بہت پیسہ کمایا ہے، جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، ہم اپنے ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے، ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ریٹیلرز کو فکس ٹیکس پر لائیں گے، کیپسٹی کے حساب سے فکس ٹیکس لگائیں گے، دکاندار کو فارم بھرتے ہوئے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، فکس ٹیکس سے دکانداروں کو آسانی ہوگی، اگر حقیقی خودمختاری چاہتے ہیں تو ہر جگہ جھولی پھیلانے کے بجائے اپنے لوگوں سے ٹیکس لینا چاہیے، پاکستان کے لاکھوں لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں، شہباز شریف کے بیٹوں اور میری فیکٹری کا بھی ٹیکس بڑھا ہے، مشکل وقت ہے ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے دو، تین ماہ میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، ہم نے انکم پر ٹیکس لگایا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیں، چار سے پانچ ماہ تک حالات بہتر ہوجائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف اور میرے اپنے کاروبار پرٹیکس لگا ہے، فیکٹریز کو گیس کی فراہمی 24 گھنٹے یقینی بنائیں گے، ہماری ترجیح ایکسپورٹ بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج چین نے 3۔2 ارب ڈالر دیئے ہیں، جولائی کے آخر تک کرنسی پر پریشر ختم ہوجائے گا، آج اسٹاک مارکیٹ گری ہے، یہ وقتی ہے، اسی ماہ کے اندر اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی، سپر ٹیکس لگانے کے علاوہ چارہ نہیں تھا، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد چیزیں بہتر ہوجائیں گی، مشکل فیصلوں سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے، ایک سال کے لیے صاحب ثروت لوگوں کو قربانی دینا ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آج بڑی صنعتوں پر دس فیصد کے حساب سے ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس اقدام سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جو برداشت سے باہر ہوگا،بابر اعوان

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’سپر ٹیکس‘ کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپر ٹیکس چار فیصد کے حساب سے تمام شعبوں پر لگے گا جبکہ 13 صنعتی شعبوں پر چھ فیصد کے حساب سے اضافہ کر کے ان سے دس فیصد کی شرح سے یہ سپر ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کے بعد ان پر ٹیکس وصولی کی شرح 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائے گی۔‘

سپر ٹیکس کیا ہے؟
حکومت کی جانب سے بڑے صعنتی شعبوں پر سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے بعد یہ سوالات اٹھنے شروع ہوگئے کہ کیا ہے یہ ہی کہا جارہا ہے کہ ’سپر ٹیکس لگ سکتا ہے تاہم ٹیکس لگاتے ہوئے اس کا مقصد بیان نہیں کیا جاتا۔‘

مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

’اس سپر ٹیکس کو لگاتے ہوئے حکومت نے اس کا مقصد بیان کر دیا ہے کہ اس سے اکٹھے ہونے والے پیسے کو غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جو غلط ہے۔‘جب کسی ٹیکس کو لگانے کا مقصد بیان کر دیا جائے تو وہ لیوی ہوتی ہے اور اس کی منظوری پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے دس فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس 13 صعنتی شعبوں پر لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان شعبوں میں سیمنٹ، بینکنگ، ایوی ایشن انڈسٹری، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، شوگر، بیوریج، سٹیل، تیل و گیس، فرٹیلائزر، سگریٹ، کیمیکل کے شعبے کی انڈسٹریاں شامل ہیں جنھیں دس فیصد کے حساب سے یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

پاکستان میں ان شعبوں کے علاوہ دوسرے صعنتی شعبے چار فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور درج بالا پر چار فیصد شرح میں چھ فیصد کی شرح سے اضافہ کر کے ان پر سپر ٹیکس کی صورت میں دس فیصد ٹیکس کی شرح کر دی گئی ہے۔

پاکستان فیڈریشن آف چمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے قائم مقام صدر شبیر منشا نے سپر ٹیکس کے فیصلے کو صنعتی شعبے کے لیے ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ سپر ٹیکس کی زد میں آنے والے شعبوں کی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس لگنے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ جمعے کے روز کریش کر گئی کیونکہ ان کمپنیوں میں سے بڑی تعداد سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ ہیں۔

آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت