fbpx

ناانصافی اورنسل پرستی آج بھی پورے امریکہ میں چھائی ہوئی ہے:قابونہ پایا گیاتوامریکہ ٹوٹ جائےگا:جوبائیڈن

واشنگٹن :ناانصافی اورنسل پرستی آج بھی پورے امریکہ میں چھائی ہوئی ہے:قابونہ پایا گیاتوامریکہ ٹوٹ جائےگا:امریکی صدر جوبائیڈن نے اعتراف کیا ہے کہ سیاہ فاموں کے قتل عام کی برسی کے موقع پر کہا ہے کہ ناانصافی اور نسل پرستی آج بھی پورے امریکہ میں چھائی ہوئی ہے۔

یہ بات صدر جوبائیڈن نے سن 1921 میں سفید فاموں کے ہاتھوں سیاہ فاموں کے قتل عام کی سو ویں برسی کے موقع پر مقتولین کے پسماندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ چھے جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملہ بھی امریکی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین وڈ میں سیاہ فاموں کا قتل عام بھی اندرونی دہشت گردی کی ایسی نشانی ہے جسے تاریخ کے حافظے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

قابل ذکر ہے کہ سو سال قبل 31 مئی اور یکم جون 1921 کو، سفید فام نسل پرست گروہوں نے گرین ووڈ کے علاقے ٹالسا پر حملہ کر کے سیکڑوں سیاہ فاموں کو قتل اور ان کی دکانوں، گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور کتاب خانوں کو تباہ کر دیا تھا۔

تاحال اس واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین کو کسی بھی قسم کا تاوان بھی ادا نہیں کیا گیا ہے جبکہ بیمہ کمپنیوں نے بھی، سیاہ فاموں کی اکثر درخواستوں کو جنکی مجموعی مالیت ستائیس ملین ڈالر کے لگ بھگ تھی، مسترد کر دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ اس وقت امریکہ میں، کو کلاس کلن اور نیو نازی گروپ سے لیکر پراؤڈ بوائز اور اوتھ کیپر جیسے انتہا پسند اور سفید فام سپرمیسسٹ گروپ سرگرم ہیں اور انہیں بعض امریکی حکومتوں کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق بھی پراؤڈ بوائز نامی انتہا پسند گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.