fbpx

انصاف کا تقاضہ تھا چیئرمین نیب اپنے اثاثوں کاحساب دیتے، شاہد خاقان عباسی

ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نیب کو ختم کرکے معاملات آگے چلائیں-

باغی ٹی وی : ن لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کل سابق چیئرمین نیب کا بھی حساب ہوگا،انصاف کا تقاضہ تھا چیئرمین نیب اپنے اثاثوں کاحساب دیتے،4سال کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے ملک کونقصان پہنچا نیب کی حقیقت اس سےعیاں ہوتی ہےکہ ان کیسزمیں کچھ نہیں 4سال کی نااہلی او رملک کو پہنچے نقصان کا ایک روز میں ازالہ نہیں کیاجاسکتا-

نیب ملازمین اور انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

قبل ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے کہا تھا کہ نیب کے سابق چیئرمین کہتے رہے اب تک 820 ارب روپے ریکور کر چکے ہیں لیکن سیکرٹری خزانہ نے قومی خزانے میں 15 ارب روپے جمع کرائے جانے کی تصدیق کی ہے.

قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک اکاؤنٹ میں ریکوری کا پیسہ ہوتا ہے، کسی فریق کا کیس فائنل ہونےتک پیسے آفس فنڈ میں رکھے جاتے ہیں، اب بھی بینک میں کچھ ارب روپے موجود ہیں، آڈٹ کرانے کو تیار ہیں جو پیسے نیب سے آئے ان کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو بھی ریکوری ہو جائیں، اس کا آڈٹ ہو گا۔

ایمان مزاری کی عبوری ضمانت میں 20 جون تک توسیع

آڈیٹر جنرل نے بتایا تھا کہ قومی خزانے میں نیب کی ریکورکردہ رقم کا 2، 3 فیصد ہی جاتاہے۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا ملک میں اتنی کرپشن ہوئی ہے کسی نے تو کی ہے، اوپرسے تو نہیں آئی؟ ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کے تما م موجودہ اور سابق ڈائریکٹرز ، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ایک ماہ میں طلب کرلیں۔

چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا تھا کہ اب احتساب کا بھی احتساب ہوگا، نیب حکام کے زیر استعمال گاڑیوں اور مراعات کی تفصیلات بھی دی جائیں، نیب حکام کا تحفہ قبول کرنا بھی کرپشن ہے، کوئی افسر اخلاقی طور پر اچھا نہیں ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ نیب کیس ثابت نہ کرنے پر کسی سے معافی نہیں مانگتا۔

مہنگائی کی اوسط شرح 8فیصد کے ہدف کی نسبت 13.3 فیصد تک پہنچ گئی