fbpx

انسان اور اس کی حیثیت تحریر : اسامہ خان

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے