fbpx

انسانیت کیا ہے؟میان بخش علی پیرزادہ

انسانیت کیا ہے؟ کیا انسانیت نام کا کوئی تصور ہے؟ اگر ہے تو اس میں کوئی ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ ابھی تک نہ کوئی ایسی کتابیں نظر سے گزری، جس کا مرکز انسانیت ہو البتہ کچھ ماہرین نے موجودہ معاشی ترقی عناصر ترکیبی پر ضرور اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ صر ف مادّی یا منافع پر مبنی چیزوں کے اعداد و شمار کا نام ترقی ہونی چاہیے۔ ان میں وہ کام بھی شامل ہونا چاہیے جو لوگ خیرات و صدقات کی مد میں کرتے ہیں اور اس میں وہ خرچے بھی شامل ہونے چاہئیں، جو لوگ تعلیم و تربیت پر خرچ کرتے ہیں۔

اگر ہم انسانیت پر غور کریں تو انسانیت کا پہا اصول قربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ اج ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ جسمانی طور پر ہم ان کے خون کا حصہ ہیں۔ اگر قربانی کی تشریح ہم یوں کریں کہ کسی کسی دوسرے انسان یا حیوان کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے وسائل خرچ کرنا۔ اب یہ وسائل مالی، جسمانی، مکانی، زمانی، یا ذہنی ہو سکتے ہیں۔

انسانیت کا دوسرا اصول ایمان داری کا ہونا چاہیے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے وہ چیز پسند کریں، جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ انسانیت یہ نہیں ہے کہ میں خود فاسٹ فوڈ نہ کھاؤں بلکہ دوسروں کو کھلا کر فائدہ حاصل کرنے کے لیے اشتہار بازی کا ہر ذریعہ استعمال کروں۔ مطلب یہ کہ ایک چیز جس کو میں اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہوں، دوسروں کو کھلاتا ہوں۔

تیسرا اصول، عزت نفس۔ نفسیاتی طور پر ہر انسان کو عزت نفس عزیز ہے، لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھے۔ آدمیت و احترام آدمی کے اصول کی پاسبانی کرے اور یہ احترام بلا تفریق ہونا چاہیے۔ عزت کا تعلق زبان کے استعمال سے ہے لہٰذا انسانیت کا تقاضا ہے کہ اپنی زبان کو انسانیت کے تابع کریں۔