fbpx

مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

شمالی افریقی ملک مراکش کے ساحل سے انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ زیورات ڈیڑھ لاکھ سال پرانے ہیں یہ دریافت رباط میں مراکشی آثار قدیمہ ادارے، ایریزونا یونیورسٹی اور یورپ افریقا کی بحیرۂ روم کی لیبارٹری پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مراکش میں محققین نے جمعرات کو ایک لاکھ 42 ہزار سال اور ایک لاکھ پچاس ہزار سال کے درمیان قدیم ترین زیورات کی نقاب کشائی کی، یہ زیورات ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ساحلی شہر الصویرہ کے بیزمون غاروں میں دریافت ہوئے۔

مراکشی ماہر آثار قدیمہ عبدالجلیل بوزوگرکے مطابق یہ دریافت سوراخ شدہ اور سیاہی والے 30 سمندری خولوں پر مشتمل ہے، یعنی انسانوں نے ان خولوں پر آئرن آکسائیڈ سے بھرپور سرخ مادہ لگایا تھا سرخ مٹی کے رنگ سے رنگے ہوئے چھوٹے سوراخوں والی سیپیوں سے بنے کئی ہار اور کنگن ملے ہیں، جو چند ہفتے قبل الصویرہ کے قریب بیزمون غار میں پائے گئے تھے –

انہوں نے کہا کہ یہ سیپیاں ڈیڑھ لاکھ سال پرانی ہیں، فی الحال اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے قدیم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں نے ان سیپیوں کو آپس میں یا دوسرے لوگوں کے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مراکش اور انسانیت کے لیے ایک بڑی دریافت ہے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریافت ہونے والے ہاروں میں سے کچھ کو قدیم زمانے میں مواصلات کی ایک شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

محققین کے مطابق مراکش میں دنیا کے قدیم ہومو سیپیئنز (ارتقا کے دوران بالکل ابتدائی انسان) سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی باقیات دریافت ہوئی تھیں، جو 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے تھے، انھیں 2017 میں فرانسیسی محقق ژاں ژاک ہوبلن کی ٹیم نے جبل الرحود میں دریافت کیا تھا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!