fbpx

اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

سوچا کہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر کچھ لکھوں
سانپ کی زہر اس کے منہ میں ہوتی ہے جسے وہ اپنے دانتوں کی مدد سے مخالف پر استعمال کرتا ہے کچھ سانپ اپنی زہر مخالف پر فوار کی صورت میں پھینکتے ہیں
بچھو اپنی زہر اپنی دم میں محفوظ رکھتا ہے جہاں سے یہ اپنی دم کے آخری کنارے پر نوک کے ذریعے مخالف پر وار کرتا ہے
ایک مثل مشہور ہے کہ
سانپ سلائے اور بچھو رولائے
بچھو کے کاٹے کے درد کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے
دنیا میں ایک بچھو (ڈیتھ سٹاکر) جو قد و قامت میں انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے زیر انتہائی قیمتی ہے۔ اس کی ایک کلو زہر کی قیمت پاکستانی اربوں روپوں میں ہے
کہا جاتا ہے کہ ہر دو جانوروں کی زہر تریاق کا کام بھی کرتی ہے۔
جو بنی نوع انسان کو بچانے کے کام بھی آتی ہیں
زہر بھی ہے تریاق بھی ہے

لیکن انسانی زہر ہمیشہ اپنا اثر منفی ہی رکھتی ہے اس کا اثر کبھی مثبت نہیں رہا
یعنی وہ تریاق کبھی بھی نہ بن سکی۔
بنی نوع انسان نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی روح کو زخمی کیا وہ روح جو دراصل اللّٰہ پاک کا امر(حکم) ہے
جب یہ بداعمالیاں اس حد تک پہنچ گئیں کہ روح زخمی ہو گئی تو پھر روح کی سوچوں کا محور جسے ضمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ متاثر ہونے لگا۔اور رفتہ رفتہ اپنی زندگی کھونے لگا۔ حتیٰ کہ ضمیر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
اور ضمیر گلنے اڑنے لگتا ہے

اس کے تعفن سے بے زار ہو کر روح اس بدبو کو سوچوں کے زریعے انسانی جسم کے اہم حصے دماغ تک پہنچا دیتی ہے۔
اور پھر دماغ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف مخارج(زبان، آنکھ،ہاتھ ، پاؤں وغیرہ)کے زریعے اس ضمیر کے تعفن زدہ مواد کو دوسرے انسانوں اور دیگر مخلوقات کی طرف روانہ کر دیتا ہے
جس سے مختلف روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں
ان بیماریوں میں سرفہرست نفرت اور منافقت عروج پاتی ہیں
المختصر یہ زہر پہلے خود اسی انسان کو بد اعمالیوں کی شکل میں نقصان پہنچا کر دوسرں کو متاثر کرتی ہے
اللّٰہ پاک ہمیں نیک اور صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائیں آمین
یہ میری زاتی آراء ہے
متفق ہونا ضروری نہیں