انسانی حقوق کی خلاف ورزی، امریکہ پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے،ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا مطالبہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ پر انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام میں بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے

یہ بات ایرانی عدلیہ کے سربراہ علامہ سید ابراہیم رئیسی نے کہی، ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے امریکہ میں حالیہ مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ مغرب اور امریکہ کے حالات دیکھ رہے ہیں کہ محروم افراد کیا کرتے ہیں، ایک سیاہ فام شہری کے ساتھ امریکی پولیس کا رویہ غیرمنظم امریکہ کی علامت ہے۔

علامہ رئیسی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد سے کس طرح سلوک کرتا ہے، امریکہ میں بنیادی انسانی حقوق تباہ کردیئے جاتے ہیں اور انسانی حقوق کے دعویدار چیخ نہیں مارتے ہیں، آج امریکہ پر نہ ہی انسانی حقوق کے دعویدار بلکہ انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام میں بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنے کی ضرورت ہے، یہ صرف رنگ کی بات نہیں ، امریکہ میں منظم نسل پرستی کا معاملہ ہے۔

امریکی مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ، ٹرمپ اہلخانہ سمیت فرار

سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں موت ، احتجاج مظاہرے ، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو لگا دیا گیا

ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

امریکہ اپنے شہریوں پر تشدد بند کرے، ایران کا مطالبہ

مظاہروں‌ کو روکنے کے لئے امریکی صدر کا فوج تعینات کرنیکا اعلان

امریکی پولیس نے ایک اور سیاہ فام کو روکا تو وہ کون نکلا؟ ویڈیو وائرل

سیاہ فام امریکی شہریوں کی جانب سے اپنے اوپر ظلم اور نا انصآفی کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع اور شدت اختیار کرتا جار رہا ہے . اس سلسلے میں یہ احتجاج وائٹ ھاؤس تک پہنچ گیا ہے . اور اب وائٹ ھاؤس کےقریب چرچ کو آگ لگادی گئی ہے.

خیال رہے کہ امریکا میں  دارالحکومت واشنگٹن سمیت پچیس شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، مظاہرین وائیٹ ہاؤس میں داخل ہوئے جس کے بعد امریکی صدر زیر زمین بینکرز میں چلے گئے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سمیت کئی ریاستوں کے بڑے شہروں میں رات کا کرفیواور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا ہے پولیس کے ساتھ ملٹری،نیشنل گارڈ اور ایف بی آئی بھی حرکت میں آگئی۔ایک سیاہ فام امریکی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعدحالات قابو سے باہرہیں

وائیٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین نے دہشت گرد وائیٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے جیسے نعرے لگائے،امریکہ کی دیگر ریاستوں‌ میں‌ 15 سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے،عوام کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا،

واضح رہے کہ سیاہ فام جارج کو شہر مینیا میں پولیس اہلکار نے گردن پر گھٹنا رکھ کر دبایا جس سے اس کی موت ہو گئی تھی اسکے بعد سے امریکہ میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں، امریکہ میں اس سے قبل بھی 2014 میں نیو یارک میں ایک سیاہ فام شخص پولیس کی زیرِ حراست ہلاک ہو گیا تھا۔ایرک گارنر نامی سیاہ فام شخص کو کھلے سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

امریکی شہریوں پر حکومتی بربریت پر یورپ خاموش کیوں؟ اسے ہمیشہ کیلئے منہ بند کرنا ہو گا،ایران

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.