fbpx

فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

فیس بک کی جانب سے ملکیتی ایپ انسٹاگرام پرکی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسٹاگرام سے نوجوان لڑکیوں میں نقصان دہ اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

باغی ٹی وی : امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے محققین کی جانب سے تین سال پر محیط تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ انسٹاگرام کے نوعمر صارفین کی ایک بڑی تعداد کی نفسیات پرمواد کی وجہ سے برا اثر پڑ رہا ہے۔

واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

فیس بک کی جانب سے 2019 میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر تصاویر سے ہر تین میں سے ایک نو عمر لڑکی کو اپنے جسم کے بارے میں نفسیاتی خدشات لاحق ہوجاتے ہیں تحقیق میں رائے دینے والے نو عمروں کے مطابق ایپ کے استعمال سے اضطرات اور ڈپریشن میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

فیس بک پریزنٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں جنہوں نے خودکشی کے خیالات کی اطلاع دی ، 13 فیصد برطانوی صارفین اور 6 فیصد امریکی صارفین شامل تھے 32 فیصد نوعمر لڑکیوں نے کہا کہ جب انہیں اپنے جسموں کے بارے میں برا محسوس ہوتا ہے تو انسٹاگرام اس احساس کو مزید بڑھا دیتا ہے-

گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق وہ خصوصیات جن کو سوشل میڈیا کمپنی نے سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے وہ اس کے کلیدی الگورتھم کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب انسٹاگرام نے اس تحقیق کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئےکہا کہ کمپنی نوجوان صارفین کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

ادھر انسٹاگرام کی پبلک پالیسی کی سربراہ کارینا نیوٹن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ تمام لوگوں کے اذہان میں یہی سوال موجود ہے کہ کیا سوشل میڈیا معاشرے کے لئے اچھا ہے یا برا؟ اس پر تحقیق ملی جلی ہےاس سے دونوں اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں انسٹاگرام میں ہم سوشل میڈیا کے مثبت اثرات کو اپنا مقصد بناتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر نظر رکھتے ہیں-

صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

کا رینا نیوٹن کے مطابق انسٹاگرام نے خودکشی، خود ضربی، کھانے سے متعلق بیماریوں پر آگاہی پر بہت تفصیل میں کام کیا ہے تاکہ ایپ کو ہر کسی کے لئے محفوظ بنایا جاسکے-

ایک بلاگ پوسٹ میں کارینا نیوٹن نے اس رپورٹنگ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی صارفین کو انسٹاگرام کی مخصوص اقسام پر رہنے سے دور کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہی ہے۔

سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار