جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم مزید تیز کریں، خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی ۔

آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے ویڈیو لنک کانفرنس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کاجائزہ لیا۔
رواں سال کے دوران صوبے میں 1600سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے گئے۔7773مشتبہ افراد کو گرفتارکرکے 2134عدد اسلحہ اور 53773عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔ مختلف مقدمات میں مطلوب 1470 مجرمان اشتہاری گرفتار کئے گئے۔
پولیس ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کریں۔ فورس کے جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔آئی جی پی

انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف اپنی جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں لائیں۔
یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور سے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کے ساتھ ایک ویڈیولنک کانفرنس کرتے ہوئے جاری کیں۔ ریجنل پولیس افسروں نے اپنے اپنے ریجن میں جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف کی گئیں کاروائیوں اور پولیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور اہلکاروں کے فلاح و بہبود کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے باری باری تفصیلی بریفنگ دی۔ ویڈیو کانفرنس میں آئی جی پی کو بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 1600سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کئے گئے جن میں 7773مشتبہ افراد اور 1470 مجرمان اشتہاری کو گرفتار کرکے ا ن سے 2134 عدد مختلف اقسام کے ہتھیار، 53773 عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔
اس دوران پشاور میں 209آپریشنز کئے گئے جس میں 1671مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے 208عدد ہتھیار اور 2909عدد مختلف بور کے کارتوس برآمد کئے گئے۔جبکہ مردان ریجن میں 217آپریشنز میں 1218مشتبہ افراد سے 810عدد ہتھیار اور 11776عدد کارتوس برآمد ہوئے۔ اسی طرح کوہاٹ ریجن میں 262آپریشنزمیں 1566مشتبہ افرادسے 451عدد ہتھیار ، 19725عدد کارتوس اور بنوں ریجن میں 276آپریشنز میں 814مشتبہ افراد سے 167عدد ہتھیاراور 3090 عدد کارتوس، ڈی آئی خان ریجن میں 87آپریشنز میں 143مشتبہ افراد سے 104عدد ہتھیار اور 1188عدد کارتوس، ملاکنڈریجن میں 419آپریشنز میں 1327مشتبہ افراد سے 100عدد ہتھیار اور 1556عدد کارتوس، ہزارہ ریجن میں 130آپریشنز میں 440 مشتبہ افراد سے 294عدد ہتھیار اور 13529عدد کارتوس برآمد کئے گئے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مجرمان اشتہاری کی گرفتاریاں یقینی بنائیں۔ انہیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر موثر عوامی پولیسنگ کو یقینی بنانے، موٹر وے پولیس کے ساتھ مل کر موٹر وے اور دیگر شاہراہوں پر پولیس کی گشت کو بڑھانے اور تنازعات کے حل کی کونسلوں کو مزید فعال بنا کر ان کے ذریعے زیر التوا تنازعات کا جلد از جلد تصفیہ کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے پورے صوبے میں پولیس تھانوں، پولیس چیک پوسٹوں اور دیگر ضروری عمارات میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل فوری مکمل کرکے رپورٹ سنٹرل پولیس آفس پشاور کو بھیجوانے کی بھی ہدایت کی۔ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ملازمت کے دوران فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنے کا عمل فوراً مکمل کرنے اور حاضر سروس ملازمین کی فلاح وبہبود کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں اور ماتحتان کے مشکلات سے آگاہی حاصل کرکے ان کو حل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس فورس کو اپنا آئینی اور قانونی کردار پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہئے اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگا کر صوبے کو امن کا گہورہ بنائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.