fbpx

پاکستانی بینکوں میں ڈالرہی ختم ہونا شروع ہوگئے

اسلام آباد:پاکستانی بینکوں ڈالرہی ختم ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستانی بینکوں کے پاس ڈالر ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے گاہکوں کے لیے تجارت سے متعلق ادائیگیوں کے لیے مختلف ذرائع سے قرض لے رہے ہیں، بشمول ان کے اپنے ڈپازٹرز۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے تبادلے میں فارورڈ پریمیم گزشتہ چند دنوں میں گھٹ کر منفی ہو گئے، یہ ایک بہت ہی غیر معمولی پیش رفت ہے جو بینکوں میں ڈالر کی لیکویڈیٹی کی شدید کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے لیے فارورڈ مارکیٹوں میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے بینکرز منافع کو بتاتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے تقریباً ایک ماہ قبل مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت روک دی ہے۔ اسٹیٹ بینک بھی بعض اشیا کی درآمد پر پابندی کے باوجود مختلف ذرائع سے ڈالرآرہے ہیں‌۔اقدامات میں LCs کی پروسیسنگ میں "انتظامی” تاخیر کرنا شامل ہے۔

پاکستانی 11 ماہ کے دوران کروڑوں ڈالرز کی چائے پی گئے،ادارہ شماریات کی رپورٹ

ادھر ڈالر 212 روپے سے بھی تجاوز کرگیا، سونا بھی مزید 1500روپے مہنگا۔تفصیلات کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کی اوپن مارکیٹ قیمت 212 اور انٹربینک قیمت 208 روپے سے تجاوز کرگئی۔ تیل کی ادائیگیوں کی مد میں دباؤ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی اور سرکاری ذخائر مزید گھٹ کر 8 ارب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر کی بلند پرواز جاری رہی جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے انٹربینک ریٹ 208 روپے اور اوپن مارکیٹ نرخ 212 روپے کی نئی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کرگئے۔

ڈالر کی اونچی اڑان ،اوپن مارکیٹ میں212 روپے کا ہو گیا

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 209 روپے سے بھی تجاوز کرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک روپے 8 پیسے کے اضافے سے 208.75 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 2.50 روپے بڑھ کر 212 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپیہ کی قدر کا دارومدار آئی ایم ایف پروگرام کے گرد گھومتا جارہا ہے، حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات کے باوجود آئی ایم ایف قرض پروگرام کے معاہدے پر رضامند نہیں بلکہ پیٹرول پر لیوی اور سیلز ٹیکس بھی بھی عائد کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

ماہرین کے مطابق اس سے پروگرام میں شمولیت کا عمل طول اختیار کررہا ہے اور مالیاتی بحران میں خطرناک حد تک بڑھنے سے غیر یقینی ماحول سے ڈالر کی بلند پرواز جاری ہے۔علاوہ ازیںپاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 1500 روپے اضافے کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ ایک لاکھ 45 ہزار 500 روپے ہوگیا ہے۔10 گرام سونے کی قیمت 1285 روپے اضافے سے ایک لاکھ 24 ہزار 742 روپے ہے۔صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر 27 ڈالر بڑھ کر 1846 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔