fbpx

انضمام شدہ علاقوں کی عوام کی ملک کیلئے دی گئی قربانیوں کی قدرکرتے ہیں ،عمران خان

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرصدارت انضمام شدہ علاقوں کی تعمیروترقی اورخصوصاً اس عمل کے لئے وفاق کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ہے.

اجلاس میں وزیرِخزانہ شوکت ترین، وزیرِمنصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان، معاون خصوصی ڈاکٹرشہباز گل، معاون خصوصی ڈاکٹروقارمسعود، وزیرِخزانہ کے پی تیمورسلیم جھگڑا، سیکرٹری خزانہ ودیگرسینئرافسران نے شرکت کی ہے، اجلاس میں انضمام شدہ علاقوں میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے.

اجلاس کو بتایا گیا کہ انضمام شدہ علاقوں کی آبادی ملکی آبادی کا تقریباً 2.4فیصد ہے، جس کے اعتبارسے این ایف سی ایوارڈ میں انضمام شدہ علاقوں کا حصہ تقریباً 80ارب روپے بنتا ہے جبکہ وفاق کی جانب سے اس وقت 4 فیصد کے اعتبارسے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، انضمام سے پہلے 84ارب ادا کیے جا رہے تھے، جبکہ انضمام کے بعد 146 ارب ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں انضمام شدہ علاقوں کی مد میں صوبہ خیبرپختونخواہ کے لئے تقریبا 130 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، انضمام شدہ علاقوں کی تعمیروترقی کے لئے وفاق کی جانب سے سابقہ قبائلی علاقوں کی عوام سے کیے گئے وعدوں کو مکمل طورپرپورا کیا جارہا ہے.

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیروترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، انضمام شدہ علاقوں کی عوام نے ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جن کی ہم انتہائی قدرکرتے ہیں، صوبوں پرزوردیا کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیروترقی کے لئے کیے گئے وعدے کی تکمیل کے حوالے سے صوبے اپنا حصہ ڈالیں، تاکہ تعمی وترقی کے عمل کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔