مقبوضہ کشمیر: کرفیو کو دو ہفتے بیت چکے، انسانیت دم توڑنے لگی، دنیا کے منصف تاحال خاموش تماشائی بنے بیٹھے

مقبوضہ کشمیر: کرفیو کو دو ہفتے بیت چکے، انسانیت دم توڑنے لگی، دنیا کے منصف تاحال خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں.

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارتی بلیک آؤٹ سے مظلوم کشمیریوں کی زندگی موت سے بدتر ہو گئی ہےلیکن انکے حوصلے ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند ہیں۔
کشمیر میں لوگ اسپتال نہ جا سکنے کے باعث گھروں میں دم توڑ رہے ہیں، حاملہ خواتین بھی بچوں کی پیدائش کے لئے اسپتال جانے سے قاصر ہیں۔بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ظلم و ستم کا چودھواں روزہے اور مقبوضہ کشمیر میں دم توڑتی انسانیت قیامت صغری کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہونے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح متاثر اور مریض طبی سہولیات سے محروم ہیں۔بچوں کو دودھ کی کمی
مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں فوج تعینات ہے. موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے. جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے. اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی اپلوڈ نہیں ہو رہے.

بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا ہوا ہے. گرفتار شدگان اور نظر بند افراد کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے.

دریں اثناء کرفیو سے اشیائے ضروریہ کی بھی قلت ہو چکی ہے. بچوں کی غذا کی کمی ہے. جان بچانے والی ادویات بھی کمیاب ہیں. اس وقت مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے.
بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.