ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ کشمیر، تعینات بھارتی افسروں نے کی بھارتی بیانیہ کی نفی

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات افسران اور سیکورٹی فورسز نے مودی حکومت کے اس بیانیہ کی نفی کر دی ہے کہ وادی میں سب کچھ ٹھیک ہے اور معمول پر ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن ، بھارتی مظالم کوعیاں کرتی بی بی سی کی رپورٹ

افسران کے مطابق حالات کافی سنگین ہیں۔ آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد وادی مسلسل دو ماہ سے بند ہے۔ حالات ویسے ہی ہیں جیسے 5اگست کو تھے۔ اب حالات معمول پر آنے کی بجائے مزید بگڑ سکتے ہیں۔مارکیٹوں میں سناٹا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے۔ سکولز اور کالجز بھی بند ہیں۔ہزاروں لوگ نظربند یا قید ہیں۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے گورنر نے دعوی کیا ہے کہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں۔ دریں اثنا بی جے پی کے سوا 24 اکتوبر کو ہونے والے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) کے الیکشن لڑنے سے سبھی پارٹیوں نے انکار کر دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر: بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 66 واں دن ، مزید 3 کشمیری شہید

بھارت کے انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایک درجن سے زائد پولیس افسران کے انٹرویو کرنے کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی بیانیہ جو مرضی ہو لیکن وادی حالات معمول پر نہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں کتنے ہزار اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں؟ اہم خبر

زیادہ نوکرشاہوں اور پولس افسروں سے بات کرنے کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت بھلے ہی کچھ بھی کہے لیکن وادی میں حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ ”ہم کہتے تھے کہ سیکورٹی فورس گھڑی دیکھتے ہیں، جب کہ ’دہشت گردوں‘ کے پاس ہمیشہ وقت ہے۔ لیکن، اب یہاں معاملہ مختلف ہے۔ حکومتی پالیسی یہی لگتی ہے کہ وہ ہر وقت جموں و کشمیر کے باشندوں پر نظر رکھے۔“ افسر کے مطابق ہم سب کو یہ اعتراف کرلینا چاہیے کہ یہاں حالات معمول پر نہیں ہیں۔“

ایک افسر کے مطابق ”دہلی کو لگتا ہے کہ اگر ابھی تک کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا ہے تو حالات معمول پر ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے۔“

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.