fbpx

اقراعزیز سیریل کلرکی زندگی پر مبنی فلم”جاوید اقبال” پر پابندی لگنے پر برہم

اداکارہ اقرا عزیز نے سیریل کلر کی زندگی پر مبنی فلم ’’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ پر پنجاب میں پابندی لگنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

باغی ٹی وی : 100 بچوں کے قاتل لاہور کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم ’’جاوید اقبال؛ دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ 28 جنوری کو ریلیز ہونی تھی۔ لیکن پنجاب حکومت نے فلم کی نمائش سے صرف ایک روز قبل فلم کی ریلیز روک دی۔

فلم میں اداکار یاسر حسین نے جاوید اقبال کا مرکزی کردار نبھایا تھا جب کہ اداکارہ عائشہ عمر نے فلم میں پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا فلم پر لگنے والی پابندی کے باعث جہاں یاسر حسین نے اعتراض کیا تھا وہیں ان کی اہلیہ اداکارہ اقرا عزیز نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

اقرا عزیز نے فلم کی ریلیز پر لگنے والی پابندی کے حوالے سے انسٹاگرام پر کہا کہ ہم کیوں اس حقیقت کو قبول نہیں کرسکتے کہ یہ واقعی 90 کی دہائی میں ہو اتھا۔ کیا صرف کامیڈی فلم یا پیار بھرا ڈراما ہی پاکستان میں تفریح کا ذریعہ ہے ہمارے ناظرین کہتے ہیں ہمیں کچھ اور بھی دکھاؤ لیکن دوستوں کیسے دکھائیں؟

اقرا عزیز نے پیمرا کو 70 کی دہائی کے بدنام زمانہ امریکن سیریل کلر تھیوڈور رابرٹ بنڈے المعروف ٹیڈ بنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مجھے لگتا ہے ہمارے پیمرا نے ٹیڈ بنڈے کی ٹیپس نہیں سنیں۔

خیال رہے کہ 27 جنوری کو سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ سنسر بورڈ کے ایک حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈیپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

واضح رہے کہ فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے۔ جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں قتل کرکے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے