fbpx

ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردی

تہران :ایران نے بڑی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم ہونے کے بعد یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردی۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فورڈو کے جوہری پلانٹ میں یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایران کا زیر زمین فورڈو جوہری پلانٹ تین سال پہلے دوبارہ کھولا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی طرف سے یورینیئم کی افروزدگی کا آغاز ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کی طرف سے اس قرارداد کی منظوری کے جواب کا حصہ ہے جس میں مغربی طاقتوں نے ایران پر عدم تعاون کا الزام لگاتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

واضح رہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیئم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے 60 فیصد افزودگی جوہری بم کی تیاری کی سمت میں اہم قدم ہے۔

ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے کسی بھی ارادے سے ہمیشہ انکار کیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے ہیں۔

2015 میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے تحت، ایران نے فورڈو پلانٹ کا استعمال بند کرنے اور وہاں یورینیئم کی افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو زیادہ تر سول استعمال کے لیے کافی ہے۔ جواب میں بڑی طاقتوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیوں میں نرمی پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن 2018 میں یہ معاہدہ اس وقت ناکامی سے دوچار ہونا شروع ہو گیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کو اس معاہدے سے الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ تباہ کن پابندیاں عائد کر دیں۔

کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات