ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے، اہم خبر

سعودی عرب کی آئل تنصیبات پرمیزائل حملوں کا الزام امریکہ نے ایران پر لگا دیا دوسری جانب امریکہ نے چینی کمپنی پر پابندی لگا دی، چین اور ایران کا دشمن ایک ہے ،موجودہ حالات میں خطے میں جنگ کا خطرہ ہے ،اگر ایران اور چین دشمن کے خلاف ایک ہو جائیں تو دونوں کی اکانومی بڑھ سکتی ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دوبارہ سے امن کو خطرہ ہے اورجنگ کے شعلے نظر آ رہے ہیں یہ جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں ہو گی. مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پانچ دن قبل دو سعودی آئل ٹینکرز تباہ ہوئے، بظاہر عام سی بات لگتی ہے لیکن یہ حادثہ نہیں .یہ یو اے ای کے بارڈر پر ہوااور کہا جاتا ہے کہ ان سعودی آئل ٹینکرز کو میزائل سے تباہ کیا گیا ہے ،اس واقعہ سے چند دن قبل امریکہ نے ایک خفیہ رپورٹ دی تھی کہ ایران اس خطے میں کوئی تخریبی کاروائی کر سکتا ہے. یعنی امریکہ نے اس طرح کے حملے کی پہلے خبر دی تھی، جسوقت امریکہ نے یہ خفیہ رپورٹ دی تھی اس وقت سارے لوگ سہم گئے تھے ،مبشر لقمان نے مزید کہا کہ امریکہ کی رپورٹ کے بعد سعودی آئل ٹینکرز پر حملے ہو گئے اور میزائل حملوں کی وجہ سے وہ ٹینکرزبری طرح تباہ ہوئے. حملے کے بعد امریکہ نے ایک سیٹلائٹ تصویر بھی حاصل کر لی ہے جس میں دکھایا گیا ہے بوٹ کے اوپر میزائل لوڈ کئے جا رہے ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ وہی میزائل ہیں جو آئل ٹینکرز کو لگے ہیں.اس کی فرانزک رپورٹ آنی باقی ہے .

ایران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایران کے خلاف بین الاقوامی سازش اور بہت بڑی سازش ہے، ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے امریکہ کے ایما پر ڈھونگ رچایا جا رہا ہے. اس سے قبل کہ اقوام متحدہ یا کوئی اور اس کے بارے بات کرے امریکہ نے خطے میں فورسز بھجوانا شروع کر دی ہیں، اس کے علاوہ ائیر کرافٹ کیریر بھی موو ہو رہا ہے .

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ سعودی آئل ٹینکرز ہیں، یو اے ای کی زمین ہے، ،پرشین گلف ہے، ایران کے میزائل ہیں یا الزام ہے ،امریکہ الزام لگا رہا ہے اور برطانیہ نے اس کی حمایت کر دی ہے .

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا ،امریکہ نے چائنہ کی بڑی کمپنی ہواوے کے اوپر کاری الزامات لگائے اور تجارت بند کر دی، کچھ ماہ قبل خبر آئی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہواوے کے موبائل سپائیز کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. ان میں کیمرہ یا چپ کچھ ایسا ہے جوسگنل ٹرانسمیٹ کرتے ہیں. اس کے بعد ہواوے کی سیل ڈراپ ہونی چاہئے تھی ، ہواوے فائیو جی ٹیکنالوجی بہت کم قیمت پر دے رہا ہے اس لئے بہت ساری امریکی کمپنی کا انحصار اس پر ہے، آج اس پر پابندی لگی ہے اور چائنہ اسوقت سب سے بڑا دنیا کا کنزیومر ہے اس کو انرجی چاہئے، ایران کے اوپر تھریٹس ہیں اس کو تیل کی تجارت کرنے کے لئے مشکلات ہیں ،ایسی صورت میں ایران اور چائنہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ،اسوقت دونوں ایران اور چائنہ کا دشمن ایک ہے. اگر ایران اور چائنہ تیل کی ترسیل کا کام شروع کر دیتے ہیں ایران کو زبردست ڈالر مل سکتے ہیں. اس کو امریکہ کیسے دیکھے گا،ایران کے اوپر جنگ فوری مسلط کر دی جائے گی یا انتظار کیا جائے گا .

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اگر میزائل حملے کی فرانزک رپورٹ آ جاتی ہے اور اس میں ثابت ہو جاتا ہے کہ سعودی آئل ٹینکرز پر یہی میزائل لگے تھے تو پھر جنگ کا خطرہ ہے .

واضح رہے کہ سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات اور ترسیلی نظام پر دو حملے ہو چکے ہیں. 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ پر دو سعودی جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا ،دوسرا حملہ بحیرہ احمر کی ‘یانبو پورٹ’ پر ڈرون طیاروں سے کیا گیا تھا . جس کے بعد پمپنگ اسٹیشنز میں آگ لگنے سے آرامکو نے متاثرہ پائپ لائن سے تیل کی سپلائی روک دی تھی .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.