ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کیوں‌ آئے آرمی چیف سے کیوں ملے ، مبشر لقمان نے اندر کی بات بتادی

ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کیوں‌ آئے آرمی چیف سے کیوں ملے ، مبشر لقمان نے اندر کی بات بتادی

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی یو ٹیوب ویڈیو میں کہا ہےکہ آج ایران کے وزیرخارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے . ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ہے جس کا واضح پیغام ہے کہ اب سعودی عرب کا پریشر برداشت نہیں کیا جائے گا. اور اب پاکستان نے سعودی عرب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا ہے .

مبشر لقمان کا کہنا تھا جواد ظریف کا وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ملاقات اس بات کی طرف اشارہ ہے اس اتحاد کی طرف جلدی سے بڑھا جا رہا ہے جس کی طرف شاہ محمود نے کافی پہلے اشارہ کیا تھا. پاکستان نے پہلی دفعہ اپنی خارجہ پالیسی کو آزادانہ طور پر مرتب کرنے کی طرف قدم بڑھا یا ہے . پاکستان نے اب اس بات کا ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ برادر ممالک سے کسی کہنے پر تعلقات پر نظر ثانی نہیں کرے گا. کیونکہ اس سے پہلے پاکستان سعودیہ کو خوش کرنے کےلیے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا بھی کرتا رہا ہے.

سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ اپنا رویہ بھی جلدی سے تبدیل کیا ہے اور ہمیں دیے جانے والے تین ارب ڈالر بھی واپس مانگ لیے ہیں ان میں سے ایک ارب ڈالر پہلے ہی دے دیا تھا اور دو ارب ڈالراب دیے جائیں گے. جبکہ سعودیہ نے پاکستان کو ادھار تیل دینا بھی بند کردیا ہے . پاکستان پر یہ تلوار بھی لٹکا دی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب سے اپنے شہریوں کو نکالے . لیکن پاکستان نے ایسے پریشر کو نہ قبول کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اپنے مفادات میں ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے .

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ سب سے پہلے جنرل باجوہ کو کیوں‌ملے تو اس کی وجہ بتاتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی ہونے پر روک لگائے اور اس کا ملک اس سلسلے میں بالکل استعمال نہ ہو کیونکہ اگر پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے تو چین کا سی پیک متاثر ہوتا ہے . جس کا وہ کبھی بھی متحمل نہیں‌ہو سکتا . پاکستان اور ایران کے قریب آنے کی وجہ چین ہے جو ایران میں چار سو ارب کی سرمایا کاری کر رہا ہے اور گوادر کو چاہ بہار سے لنک کر رہا ہے .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.