کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

صحافتی فنڈز کی بندش اور بول چینل پر بے جا پابندی کی وجہ سے ہزاروں صحافیوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ اور آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ –

اسلام آباد میں جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی اور چیئرمین جناب ایس ۔اے۔ صہبائی ‘ صدر جناب مجیب شامی سرپرست اعلی جناب ڈاکٹر شاہد مسعود ‘ چیف آرگنائزر جناب مبشر لقمان سیکرٹری جنرل جناب قاسم منیر کی طرف سے ایک واضح پیغام کے مطابق آزادی صحافت پر حملے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں – جنرل سیکرٹری جرنلسٹس ایسوسی ایشن پاکستان قاسم منیر ‘ قاسم جمشید’ غلام نبی کشمیری ‘ سدھیر کیانی ‘ ابوبکر’ بابر خان ناصر خان ،واجد جدون دیدار اور کبری بی بی کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر صحافیوں نے مظاہرے میں شرکت کی اور آزادی صحافت پر حملے کی بھر پور مذمت کی-

سیکرٹری جنرل قاسم منیر نے چیرمین جناب ایس۔ اے۔ صہبائی کا پیغام قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ اقدامات اور میڈیا ورکرز کے فنڈز کی بندش اپنی ناکامی چھپانے کے لئے آزادی صحافت پر حملہ ہیں- حکومتی گٹھ جوڑ اور پیمرا کی ملی بھگت سے سچ کی آواز کو دبانے کی نا ممکن کوشش کی گئی- بول نیوز کی جبری بندش اور پانچ ہزار ملازمین کا بے روزگار ہونے کا امکان آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے- جس کے پیچھے حکومتی ناقص پالیسی اور پیمرا چیئرمین کا گٹھ جوڑ شامل ہے – حقائق کو دبانے کے لئے ہر دور میں آزادی صحافت پر حملے کیے گئے ہیں -آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا قابل قبول نہیں ہے –

حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے – حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ ملک کے چوتھے ستون کے ساتھ ناروا برتاؤ کر رہی ہے- آج اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں پیمرا آفس کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا – جس میں انہوں نے واضح موقف اختیار کیا آزادی صحافت پر حملے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بے روزگاری کے خلاف ہم خون کے آخری قطرے تک پر امن احتجاج کرتے رہیں گے – حقائق اور سچ کی آواز کو کسی بھی صورت دبنے نہیں دیں گے
موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اگر مصلحت سے کام نہ لیا تو اپنی ہی ہارس ٹریڈنگ کے جال میں پھنس کر حکومتی کرسی سے محروم ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت بڑے بحران کے ساتھ ساتھ بڑے مسائل کا شکار ہوجائے گی – حکومت کو اپنی ساخت بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر احسن اقدامات کرنے ہوں گے – تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.