fbpx

اس وقت ہماری ترجیح کم آمدنی والوں کے مسائل حل کرنا ہے شوکت ترین

ومشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ دنیامیں جتنی قیمتیں بڑھیں ہمارے ہاں اتنی نہیں بڑھیں۔

باغی ٹی وی :مشیر خزانہ شوکت ترین نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمت میں47 ڈالراضافہ ہوا ساری درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں دنیامیں جتنی قیمتیں بڑھی ہیں ہمارے ہاں اتنی نہیں بڑھیں امریکہ سمیت دیگر ملکوں میں بھی مہنگائی پر لے دے ہو رہی ہے عمران خان کوعام آدمی کے مسائل کا احساس ہے اس وقت ہماری ترجیح کم آمدنی والوں کے مسائل حل کرنا ہے لوگوں کی قوت خرید آہستہ آہستہ بڑھے گی۔

کالج کے عملے اور خواتین کو ہراساں کرنے کا معاملہ: معروف اینکر کا بیٹا ساتھیوں سمیت عدالتی ریمانڈ پر…

مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ڈالر نہیں تھے تو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا آئی ایم ایف کا پروگرام سخت ہوتا ہےجب حکومت سنبھالی تو معاشی مشکلات کا سامنا تھا کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت منفی میں چلی گئی کوویڈ کو جس طرح وزیراعظم نے ہینڈل کیا اسکی پوری دنیانے تعریف کی بچت نہ ہونےکی وجہ سے پائیدار ترقی نہیں کرپاتے پائیدار ترقی نہ ہونےکی ایک اور وجہ درآمدات اور برآمدات میں فرق ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے زراعت پر توجہ دی۔ زراعت پر اس بار بہت پیسے لگا رہےہیں۔ زرعی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے۔ ہماری فصلوں کی پیدوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا انکم ٹیکس میں 32 فیصد اضافہ ہوا ٹیکس دہندگان میں اضافہ ہمارا ہدف ہےکوشش ہے کہ آئی ٹی کی برآمدات آئندہ سال 75 فیصد تک ترقی کرے اسی طرح ہم گروتھ کرتے رہے تو 5سال میں20فیصد پرچلےجائیں گے ہمیں کم از کم20 سے30سال کے لیے ترقی چاہیے بعض ممالک نے30سال 10فیصد سے ترقی کی۔

شوکت ترین نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام سے ملک کی قسمت بدل جائے گی 40لاکھ گھرانوں کو اپنے پیروں پر کھڑے کررہے ہیں،معاشی ترقی کی شرح5فیصد سے زیادہ ہونے کی توقع ہے ہمیں ہر سال15 سے20 فیصد نوکریوں کی ضرورت ہے۔

پنجاب: چینی کے بعد آٹے کے بحران کا خدشہ

دوسری جانب پاکستان کی 9 علاقائی ممالک کو برآمدات میں 31.56 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایک سال پہلے کے مقابلے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں تقریباً 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان ممالک میں افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل ہیں-

رپورٹ کے مطابق مذکورہ ممالک کے لیے برآمدات 90 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی ایک چھوٹی سی رقم ہے جو کہ مالی سال 22 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی 6 ارب ڈالر کی کل عالمی برآمدات کا صرف 13.5 فیصد ہے۔

پاکستان کی برآمدات میں بھارت اور بنگلہ دیش کے بجائے چین سرفہرست ہے، پاکستان اپنی سرحدی تجارت نیپال، سری لنکا، بھوٹان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے ساتھ صرف سمندر کے راستے کرتا ہے دوسری جانب، ان ممالک سے درآمدات رواں سال جولائی تا ستمبر کے دوران 4ارب ڈالرتک پہنچ گئیں جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 42.6 فیصد زیادہ تھیں درآمدات کے نتیجے میں زیر جائزہ مدت کے دوران خطے کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔جولائی تا ستمبر مالی سال 22 میں چین کو پاکستان کی برآمدات میں مثبت اضافہ ہوا علاقائی برآمدات کا بڑا حصہ جو 59 فیصد بنتا ہے، چین کے پاس ہے جبکہ دیگر 8 ممالک کے لیے ہے۔

چینی کے ایکس ملز ریٹ 42 روپے کلو کم ہو گئے