fbpx

اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے

کراچی گرین لائن ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے چالیس بسوں کی پہلی کھیپ کراچی کی بندرگاہ پر آنے پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔

اس موقعے پر گورنرسندھ سمیت وفاقی وزراء ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ انفرا اسٹرکچرڈیولپمنٹ کے سی ای اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے شہر کراچی کا حق آج سے پہلے آنے والی وفاقی اور نہ صوبائی حکومتوں نے ادا کیا ہے ۔‘‘

کراچی کی محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ کراچی پیکیج گیارہ سو ارب روپے مالیت کا، لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہے ، شہر قائد کی ترقی اور بہتری کے لیے اقدامات ندارد ہیں۔ شہر قائد، اپنی اہمیت کے باوجود، سیاسی طور پر یتیم شہر ہے، کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے اور اپنے پیاروں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔

کرپشن اور نااہلی کسی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کا ایک سبب ہے جو کراچی ماس ٹرانزٹ سے شروع ہو کر کراچی ایکسپریس وے، کراچی سرکلر ریلوے سے گرین بس پروجیکٹ تک واٹر صاف کرنے کے پلانٹ تک ہر جگہ ہے، اس شہر ناپرساں کے سیاسی اور اقتصادی حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ اس کا صرف نوحہ ہی لکھا جاسکتا ہے۔

شہر کراچی میں وفاقی حکومت کا کردار محدود ہے، جب کہ شہری حکومت، شہر کے چوتھائی سے بھی کم حصے پر اختیار رکھتی ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ کراچی کے مسائل سب کے ہیں، لیکن کسی کے نہیں۔ کراچی کے حالات بہتر کرنے کے لیے سیاسی ول کا بھی فقدان ہے۔

کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ، لیکن بدلے میں اسے جو فنڈز ملتے ہیں وہ اس کے مسائل کے مطابق کم ہیں ۔ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے، اس شہر کو اجاڑنے میں یہاں کے حکمرانوں اور دعویداروں کا ہاتھ ہے۔

اہل کراچی نے پیپلز پارٹی کے دعوے اور وعدے بھی دیکھ لیے ہیں، ماضی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومتوں کے مزے بھی چکھ لیے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کراچی سے چودہ نشستیں جیتنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کا کراچی کے حوالے سے کردار اور انداز بھی دیکھ لیا ہے۔ شہر کراچی کو وفاق اور سندھ حکومتوں اور بلدیاتی اداروں نے اپنی دیدہ دانستہ ناقص حکمت عملی سے ایک پسماندہ اور نظر انداز شہر بنادیا ہے۔ آج اِس صورتِ حال میں شہر کراچی کے باسیوں کے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

اس شہر کے متعدد علاقوں کو مکمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں بسایا گیا۔ پھر غیر قانونی تعمیرات نے پورے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس کے انفرا اسٹرکچر پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، اس لیے کچی آبادیوں کا ایک جنگل اگ گیا ہے۔ یہ کچی اور غیر قانونی آبادیاں کیسے بنیں؟ ان پر قبضے کس نے کروائے؟

کراچی میں ڈرینج کے نظام اور نکاسی آب کے لیے جو بڑے بڑے نالے اور ندیاں بنائی گئی تھیں، ان میں باقاعدہ آبادیاں قائم ہو گئی ہیں۔ یہ آبادیاں کیسے بنیں؟ ان کی سرپرستی کس نے کیں؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ یہ سارا غیر قانونی کام بتدریج اور بڑی سرعت سے ہوا ہے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ ماضی کو بھول کر اب مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے لیکن اس بات کا جائزہ تو لے لیں کہ جو کارستانیاں کی گئیں، وہ کیا تھیں اور کیوں کی گئیں کیونکہ قدرت کا قانون ہے جو اٹل ہے کہ جن معاشروں میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور ظالم کیفر کردار تک نہیں پہنچتا ان معاشروں کو زمین چاٹ جایا کرتی ہے۔

کراچی نے سب کو مہربان ماں کی ممتا دی اور شفیق باپ کی طرح پالا جس کے باعث کراچی کو سب نے ’’منی پاکستان‘‘ مانا۔ کراچی سارے پاکستانیوں کا شہر ہے جس نے ہمیشہ کھلے دل اور کھلے ہاتھوں کے ساتھ سب کو خوش آمدید کہا ہے اور اپنی وسیع الجہتی ثقافت میں جذب کر لیا ہے۔ کراچی میں نئے اور مسلسل اضافے کے حامل رہائشیوں کی تعداد انتظامی اصول و ضوابط سے ماوراء رہی ہے۔

چند سالوں میں لاکھوں کی آبادی کا شہر کروڑوں کی آبادی کا بن گیا اور آبادی کے لحاظ سے وسائل کی کمی نے مسائل کا انبار لگا دیا۔ روشنیوں کا عالمی شہر اپنے ہی حکمرانوں اور منتظمین کے ہاتھوں مٹی، دھول اور کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ کراچی کی اس خستہ حالی میں بڑا ہاتھ اس شہر کو تعصب کی سیاست کی آگ میں دھکیلنا ہے۔

سیاست، نظریہ ضرورت، کرپشن، دھوکہ بازی، رشوت، منافقت، لوٹ مار، اغواء، قتل، لاشیں، نوٹ کے بدلے ووٹ ، یہاں کا مقدر بنا دیا گیا ، اگر تصور میں کراچی شہر کا نقشہ لایا جائے تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بہتے ہوئے گٹر ، بجلی کی ناقابل برداشت لوڈ شیڈنگ ، ظالمانہ اووربلنگ، پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے شہری، تباہ حال پبلک ٹرانسپورٹ اور سرکلر ریلوے کو کرپشن کھا گئی، شہر میں روزگار، انصاف ناپید جب کہ اسٹریٹ کرائمز کا شہر بھر میں راج ہے، شہر مسائل کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔

کراچی والوں کے لیے پینے کا پانی بڑا مسئلہ ہے، نالے، نکاسی آب، بے گھر افراد، سالڈ ویسٹ کے مسائل ہیں، شہر قائد میں ٹرانسپورٹ کے ساتھ سڑکوں کا بھی مسئلہ ہے، این ڈی ایم اے نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر رہی ہے، کراچی کی سڑکیں اور دیگر انفرااسٹرکچر کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے، کراچی سرکلر ریلوے بھی عملی طور بحال نہیں ہوسکی ہے، چند دن تک نمائشی طور پر فعال رہی ہے ، کراچی کے 42 فیصد مسافر دہائیوں پرانی اور رش سے بھری بسوں کے محتاج ہیں۔ ان بسوں میں مسافروں کو اکثر چھتوں پر بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے گزرے برس 162ارب روپے کے میگا پروجیکٹس کا اعلان کیا تھا جن میں ٹرانسپورٹ کے منصوبے بھی شامل تھے، لیکن شہر کے حکام کا دعویٰ ہے کہ انھیں کوئی فنڈز نہیں ملے۔ روزانہ 600 ملین لیٹر گندا پانی سمندر میں پھینکا جارہا ہے جو سمندری حیات کو ختم کر رہا ہے اور گندگی کی وجہ سے آوارہ کتوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے اور سگ گزیدگی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے اور شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ انفرا اسٹرکچر اور صفائی کے اعتبار سے کراچی دوسرے شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور عوامی نمایندوں میں سے کسی نے مسائل کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

کراچی میں منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مناسب اعداد و شمار جمع کرنے، ماہرین کی تحقیق اور اس طرح کے اقدام کے لیے عوامی شرکت کی بھی ضرورت ہے جس میں مطلوبہ فنڈز اور ماہرین کی نمایندگی ہو کیونکہ تازہ ترین دستاویزات و تحقیق کی عدم موجودگی میں کوئی منصوبہ بندی اور انتظامی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں بنائے گئے منصوبوں میں عوامی شرکت کو نظر انداز کیا گیا، تمام منصوبوں میں استحکام کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے بنائے گئے مگر وہ مستحکم نہ ہونے کے سبب جاری نہ رہ سکے اور بنیادی طور پر عوامی پیسہ ضایع ہوا۔

بڑے پیمانے پر اصلاحات کیے بغیر کراچی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ، بہتر ہوگا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔ اٹھارہویں ترمیم کے دائرے میں صوبائی حاکمیت قائم رہے اور مرکز صوبے کی ضروری مدد کرے۔ صوبہ سندھ کو بھی اور دیگر صوبوں کو بھی ایک موثر مقامی حکومتوں کا نظام لانا ہوگا اور اختیارات و ذرایع کو مقامی کونسل اور وارڈ تک منتقل کرنا ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے اور بڑے مسئلوں کا بتدریج حل نکالا جائے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ اور صحت کے میگا پراجیکٹس کی شدید ضرورت ہے، یہ پراجیکٹس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر چلنے چاہئیں۔ کراچی کے انڈسٹریل اسٹیٹ کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات دی جائیں تاکہ روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔ چائنا کے ساتھ مل کر کراچی میں سی پیک کی سپلائی چین سے متعلق صنعتیں لگانے کا دس سالہ منصوبہ بنایا جائے۔

دراصل شہر کراچی کو ایک با اختیار مقامی حکومت کی ضرورت ہے جو اپنی آمدنی خود پیدا کرسکے، جو پورے کراچی شہر کی منصوبہ بندی اور مسائل کے حل کی ذمے دار ہو مگر موجودہ صورتحال میں بلدیاتی اصلاحات کی ایک موثر تجویز کے بغیر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے زیادہ تر کام نچلی سطح پر کرنا پڑے گا اور اس میں یونین کونسلوں کو بااختیار بنانا اور یونین کونسل کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں شہریوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔

حکمران کراچی کے مومینٹم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اسے پاکستان کی خوشحالی کے لیے استعمال کریں۔