fbpx

اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز

اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز

اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کا عمل تیز کرتے ہوئے وزیر اعظم کی ہدایت پر سول ایوی ایشن نے فریم ورک کو حتمی شکل دے دی. پلاننگ ڈویژن کی جانب سے ایئرپورٹ آوٹ سورسنگ سے متعلق ہدایت سول ایوی ایشن کو موصول ہوگئی، ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ کے لیے بین الااقوامی جریدوں میں رواں ماہ ٹینڈر کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے ایئر پورٹ آوٹ سورسنگ میں دوست ممالک کو ترجیح دینے کا پلان بنایا ہے جس کے لیے سعودی عرب، یو اے ای، قطر، چین اور ترکیہ کی کمپنیوں کو ترجیح بنیادوں پر مدعو کیا جائے گا۔

آوٹ سورس سے سالانہ ڈھائی سے تین سو ملین ڈالرز حاصل ہوں گے اور معاہدے کے تحت ایئرپورٹ 25 سال کے لیے آوٹ سورس ہوں گے۔

ایئر پورٹ ٹرمینل سروسز، پارکنگ، اسٹوریج، کارگو، ہینڈلنگ اور صفائی کے شعبے بھی آوٹ سورس کیے جائیں گے جبکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے شعبے سول ایوی ایشن کے پاس ہی رہیں گے۔ جبکہ تینوں بڑے ایئر پورٹس سے سالانہ 30 ارب آمدن حاصل ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ایئرپورٹس غیرملکی آپریٹرز کو دینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ  وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاﺅس میں ایوی ایشن کے امور پر اہم اجلاس ہوا تھا جس میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لئے بڑا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اجلاس میں بین الاقوامی ساکھ کے حامل انٹرنیشنل آپریٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلایا جائے گا اور انٹرنیشنل آپریٹرز اسلام آباد، لاہوراورکراچی کے ہوائی اڈوں کوچلانے میں معاونت فراہم کریں گے۔ علاوہ وزیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایئرپورٹس کو غیرملکی آپریٹرز کو 20 سے 25 سال کے لیے دیا جائے گا۔