ورلڈ ہیڈر ایڈ

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو ،تحریر: عشاء نعیم

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو

تحریر۔ عشاء نعیم

اس وقت ملکی صورت حال انتہائی نازک حالت میں ہے ۔الحمداللہ امن تو ہے دہشت گردی پہ قابو پا لیا ہے لیکن کشمیر میں بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے اس کی خصوصی حیثیت ختم کر کے دو ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا کرفیو لگائے ۔
نہ صرف کرفیو بلکہ دنیا سے کشمیر کے اصل حالات چھپانے کے لئے انٹرنیٹ سروس بھی تمام عرصے میں بند ہے ۔
انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی وجہ بھارت کے وہ ظلم و ستم اور قتل و غارت ہے جو چھپانے کے باوجود بھارت کو لے ڈوبے گی ان شا اللہ ۔
اس وقت کشمیر کی صورت حال یہ ہے کہ انڈین آرمی گھروں میں جا کر کشمیر یوں کو زود وکوب کرتی ہے لڑکیوں اور لڑکوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے ۔بہنوں کی عزتیں تار تار ہیں ۔سڑکیں لہو لہان ہیں ۔ کھانے پینے کی چیزیں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔ کشمیری بھوکوں مر رہے ہیں ۔ بیماروں کے لیے ادویات نہیں ہیں ۔زخمیوں کی مرہم پٹی نہیں کر سکتے ،بچوں کے لیے دودھ نہیں ہے ۔سکول بند ہیں سو تعلیمی سلسلہ بھی بند ہوگیا پے۔
اور مرنے والوں کو دفنانے کی بھی اجازت نہیں ہے وہ انھیں گھروں میں دفن کر رہے ہیں ۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے دنیا کو جھنجوڑا ہے لیکن دنیا بے حس بنی ہوئی ہے ۔
ان تک صرف کشمیر کو متنازعہ علاقہ مانا گیا ہے ۔
دنیا عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی کیوں کہ دنیا والوں کا خیال ہے وہ ڈیڑھ ارب آبادی والے بھارت کی مخالفت کریں گے تو بہت بڑی تجارتی منڈی ہاتھ سے نکل جائے گی ۔
جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم واضح کر چکے ہیں کہ دنیا انسانیت پہ تجارت کو ترجیح دے رہی ہے یہ سوچے بغیر کہ ایک بھی گولی چلی تو کیسی تجارت کہاں کی تجارت ۔
جان لے دنیا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور کشمیر یوں پہ ستم پاکستانیوں پہ ستم ہیں اور یہ ڈیڑھ ارب کی آبادی پاکستان کے ایٹمی بم کے نیچے ہے ۔
کوئی بھی انسان ایک حد تک ہی برداشت کرتا ہے کشمیریوں کی تو برداشت کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں ۔
اب وہ بھوک پیاس گولی سب سے مارے جارہے ہیں ۔
کشمیر دنیا کی سب بڑی جیل میں بدل دیا گیا ہے ۔کشمیریوں کی واحد اللہ کے بعد آس پاکستان ہے۔
کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ محبت کا ثبوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دیا ہے ۔
کشمیری الحاق پاکستان کے لئے بہتر سال سے جانیں دے رہے ہیں ۔ بھارت کے تمام قسم کے پروپیگنڈے کو انھوں نے خون کی بازی لگا کر ناکام کیا اور برستی گولیوں میں بھی پاکستان کے جھنڈے لہرا کر ،اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم کا کفن پہنا کر دنیا کو اپنی رائے بتائی ،اپنا الحاق کا فیصلہ سنایا اور آزادی کی خواہش بتائی جو وہ کسی صورت بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ۔
کشمیر میں لگنے والا کرفیو دنیا کا سب سے بڑا کرفیو ہے ۔
کرفیو وہ چیز ہے
جس سے عام حالات میں بھی چند دن میں زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے ۔
کشمیر کا کرفیو بھی عام کرفیو سے ہٹ کر ہے کیونکہ عام کرفیو میں عوام کو صرف باہر نہیں نکلنے دیس جاتا ۔سکول و کالج اور بازار وغیرہ بند ہوجاتے ہیں دریں اثناء آزاد ملکوں میں کرفیو کا پہلے سے معلوم ہوتا ہے جس سے لوگ گھروں میں کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی چیزوں کا ذخیرہ کر لیتے ہیں ۔
لیکن کشمیر چونکہ مقبوضہ ہے وہاں اچانک آرٹیکل 370 ختم کرنے کے ساتھ ہی کشمیر یوں کے اس کے خلاف اٹھنے کے ڈر سے لا محدود مدت کے لئے کرفیو لگا دیا گیا ۔
ایک طرف یہ کرفیو دوسری طرف کشمیر یوں کے گھروں پہ حملے شروع کردئیے گئے ان کو مار کٹائی کر کے لڑکیوں کو اٹھا کر لے جانا ،ان کی عزتیں لوٹنا، لڑکوں کو تشدد کر کے معذور کردینا ،کسی کو غائب کردینا کسی کو پھر مردہ دے جانا ،
پیلٹ گن سے آنکھیں اندھی کر دینا ،جسم چھلنی کردینا ،شہداء کو دفنانے کی بھی اجازت نہ دینا ،کشمیری اہنے شہداء کو گھروں میں دفن کر رہے ہیں ۔
بیماروں کو دوائیاں نہیں مل رہیں وہ بھی مر رہے ہیں ۔
یہی نہیں انٹرنیٹ سروس بند کر کے دنیا کو حالات سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے تو کشمیری ایک دوسرے سے رابطہ کر کے ایک دوسرے کی ضروریات اور مشکلات کا پتہ نہیں لگا سکتے ۔
کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری اپنے کسی رشتہ دار کا پتہ بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کن حالات میں ہیں زندہ ہیں یا شہید ہوگئے ۔وہ ماہی بے آب کی طرح دن رات تڑپ رہے ہیں ۔
دہشت گرد انڈیا کسی بھی آسانی حقوق کی تنظیم کو کشمیر میں جانے نہیں دے رہا ۔
نہ ہی کشمیر یوں کو کوئی امداد پہنچانے دے رہا ہے ۔
اس وقت کشمیریوں کی بڑی تعداد شہید ہو چکی ہے یا زخمی ہے ۔
کھانے پینے کا سامان تقریبا ختم ہو چکا ہے اور سر پہ بندوقیں تنی ہیں ۔
لیکن دنیا صرف زبانی کلامی بیان بازی سے کام چلا رہی ہے ۔
امریکہ جو کہ پاکستان میں قندیل بلوچ کے قتل پہ تڑپ اٹھا تھا ،آسیہ مسیح پہ ٹرینڈ چلاتے تھے کہ پانچ بچوں کی ماں ہے آج اسی لاکھ لوگوں کے قتل عام پہ بس زبانی خرچ سے کام چلا رہا ہے ۔
دنیا شاید اس انتظار میں ہے کہ کشمیری بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر ،بہتے خون ،اور کٹتے پیاروں کے سامنے بے بس ہو کر انڈیا کا قبضہ تسلیم کر لیں گے پھر وہ بھاگے جائیں گے اپنے منصوبوں کے ساتھ خوراک و راشن لے کر ۔
لیکن بہتر سال سے بیٹے گنوا کر ،سر کے سہاگ لٹا کر ،بھائیوں کے سائے گنوا کر کشمیر کی بیٹی بھارت کے سامنے نہ ہاری،
کشمیر کا جوان معذوری سہہ کر ،قید و بند کی صعوبتیں اٹھا کر ،تشدد میں بھی نہ ہارا
تو اب بھی آخری کشمیری تک تم ناکام ہی رہوگے ان شا اللہ ۔
لیکن جان لو اے کافرو !
تاریخ گواہ ہے ہر جبر کی رات مٹنے کو ہوتی ہے ،ہر رات کی صبح ہوتی ہے ،یر فرعون ڈوب جاتا ہے ،ہر نمرود سر پہ جوتے پڑوا کر مرتا ہے ۔ جتنا ظلم بڑھتا ہے اتنا ہی ظالم کا زوال قریب آتا ہے تمہارا زوال بھی قریب ہے ان شا اللہ ۔
اور ہماری ریاست پاکستان کے جری حاکم سے درخواست ہے تمہیں رب کا واسطہ کچھ عملی کرو۔
آپ کے تمام منصوبے بہت زبردست ہیں ہم آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن کشمیری کیا اتنا عرصہ مرتے رہیں؟
جب تک کہ دنیا کا ذہن نہ بدلہ کیا وہ یوں ہی قید رہیں گے ؟
دنیا کچھ نہیں کرنے والی آپ خود مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں اس دنیا سے جنھوں نے کشمیر یوں ہے لیے ووٹ تک نہیں دیا وہ کشمیر یوں کو کیا دیں گے ؟
جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے
کشمیر کی مائیں اللہ کو پکارتی ہیں یا خان کے اعلان کا انتظار کرتی ہیں ۔
پانی تو سر سے بھی گزر چکا ہے ۔اب اٹھو! اور مظلوم کی نصرت کا اعلان کر دو، فتح تمہاری ہوگی ان شا اللہ ۔
مظلوم کی مدد کرنے والے کے لشکر میں رب کے فرشتے اترتے ہیں ۔یاد کرو جنگ بدر جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی بس چھڑی اٹھاتے تھے اور مشرک کی گردن کٹ جاتی تھی ۔تمہاری نصرت کو بھی فرشتے اتریں گے ۔
رزق کے دروازے وہ کھول دے گا عزت اور ذلت اس کے ہاتھ میں ہے وہ عزت بھی دے گا اور کامیابی بھی۔ ان شا اللہ ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.