چمکا جو اک ستارہ تو راہ دکھا گیا، عشاء نعیم کا بلاگ

چمکا جو اک ستارہ تو راہ دکھا گیا تحریر عشاء نعیم

وہ اک ستارہ تھا
جی ہاں ستارہ جسے رات کو بھی لوگ دیکھتے ہیں تو راہ کو سمجھتے ہیں ۔
25 دسمبر۔ 1876کو چمکنے والا
وہ بھی اک ایسا ستارہ تھا جس نے تاریکیوں میں راہ دکھائی تھی ۔جس نے مایوسیوں میں امید دلائی تھی جس نے ہمت دلائی تھی اور اک ایسا جذبہ پیدا کر دیا جو دبی چنگاری سے شعلہ جوالہ بن گیا۔
جی ہاں قیام پاکستان سے پہلےہندوستان مسلمانوں کی اکثریت کہ حیثیت کمی کمینوں والی ہوگئی تھی ۔انگریز تھے یا پھر ہندو دندباتے پھرتے تھے ۔مسلمانوں کی کہیں کوئی نمائندگی تھی نہ ہی آواز ۔
سرکاری نوکریاں تھیں نہ حکومت میں کوئی عہدہ ۔نہ ہی مسلمانوں کے لئے کوئی مذہبی آزادی تھی ۔
بلکہ ہندو جہاں چاہتے منہ اٹھا کر چلے جاتے اور مسلمانوں پہ ظلم و ستم ڈھاتے ۔
مسلمانوں سے گھٹیا کام لئے جاتے ۔جھاڑو پونچھا ‘جیسے غلیظ کام لینے کے ساتھ مسلمانوں کو ناپاک بھی سمجھا جاتا ۔بنیئے جیسا چوہا خور مسلمانوں کے ہاتھ لگی چیز کو ناپاک سمجھتا تھا ۔
مسلمانوں کی مذہبی شخصیات کی گستاخی بھی معمول بنتی جارہی تھی ۔اور انگریز بھی خاموشی اختیار کرتا۔
مسلمان مسجدوں میں نماز پڑھتے تو بنیا وہاں بھی تنگ کرتا ۔ مسلمانوں کو کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی .
پھر جو چمکا وہ چاند بن کر تو رستے صاف نظر آنے لگے منزل پتہ چل گئی راہیں کھلتی چلی گئیں اور مایوسی امید میں بدل گئی ٹوٹے حوصلے دوبارہ سے بندھنے لگے کامیابیاں قدموں کو چومنے لگیں ۔
بھٹکے مسافر اک راہ پہ آ گئے ۔پھر صعوبتیں بھی لذت دینے لگیں کیونکہ صلہ نظر آنے لگا بے مقصد زندگیاں بامقصد لگنے لگی
جینے کی راہ ملی تو مشکل بھی آسانی لگنے لگی ۔
اک ایسا راہبر ملا رہنما ملا سفر بھی حضر کی طرح لگنے لگا ۔
پھر خون بھی بہا ‘گھر بار بھی لٹا ‘بہن بھائی ‘ماں باپ ‘اولاد مال سب لٹا لیکن دل کی بس ایک پکار تھی "پاکستان ” اور جب پاکستان ملا تو سب بھلا کر اک ہی نعرہ تھا پاکستان زندہ باد قائد اعظم زندہ باد ۔
جی ہاں ایسا رہنما ‘ایسی راہ دکھا کر منزل پہ لے گیا کہ قوم نے اسے سب سے بڑا لیڈر قرار دے دیا ۔اور قائد اعظم پکارنے لگے ۔
یہ محمد علی جناح کی عظیم قیادت اور سیاسی بصیرت ہی تھی جس نے اتنی مشکلات میں بھی اپنی بات منوائی اور دنیا کے نقشے پہ اب سے بڑی ریاست آزاد کروا لی ۔
آج ہم اسی بطل عظیم کی رات دن انتھک کوششوں کی وجہ سے ہی آزاد ریاست میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔اس آزادی کی قدر پوچھئے کشمیر یوں سے جنھیں مہینہ ہونے والا ہے نہ دوائی ملتی ہے نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو ۔جو مسجد میں نماز پڑھنے جاسکتے ہیں نہ اذان دینے ۔جن کی عزت محفوظ ہے نہ جان ۔
جو جگہ جگہ کٹ رہے ہیں ۔
جو اک محمد علی جناح کی راہیں دیکھ رہے ہیں ۔
اس آزادی کی قدر پوچھئے ہندوستان کے ہندو اکثریت میں رہ جانے والے اور دھوکے سے ہندوستان میں پا کستان کے شامل کئے جانے والے علاقوں کے مسلمانوں سے جنھیں جب چاہے آر ایس ایس کے غنڈے آ کر قتل و غارت شروع کردیتے ہیں ‘جب چاہے گائے کے گوشت کا بہانہ بنا کر رسیوں سے باندھ کر تڑپا تڑپا کر مارنے لگتے ہیں ۔کبھی گائے کا پیشاب پینے پہ مجبور کرتے ہیں کبھی جے شری رام کا نعرہ لگانے پہ مجبور کرتے ہیں ۔وہ بھی اک محمد علی جناح کی راہیں دیکھ رہے ہیں ۔

ہمیں ان میں سے کسی مشکل کا سامنا نہیں تو یہ اس عظیم ترین انسان کی بدولت ہے جس کا نام ہے محمد علی جناح ۔جو گیارہ ستمبر 1948 کو ہمیں اک آزاد وطن دے اپنا مقصد حیات پورا کر کے چلا گیا ۔

اللہ رب العزت انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.