سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے "ہجویری ٹرسٹ ” کے تحت "ہجویری پناہ گاہیں” بنانے کا اعلان کردیا

0
38

لاہور:سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے "ہجویری ٹرسٹ ” کے تحت "ہجویری پناہ گاہیں” پورے ملک میں بنانے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے بہت جلد پاکستان بھرمیں ہجویری پناہ گاہیں بنانے کا اعلان کردیا ، اسحٰق ڈارنے کہ میں پناہ گاہ بنانے کے مخالف نہیں، حکومت سے کہاکہ مجھے کہہ دیتی میں خود بنادیتا

باغی ٹی وی کےمطابق سابق وزیرخزانہ اسحق ڈارنے حکومت کی طرف سے ان کے گھرکو پناہ گاہ بنائے جانے کے حوالےسے اپنے رد عمل سے ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح حکومت نے میرے "ہجویری ہاوس” کوپناہ گاہ بنانے کی کوشش کی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بالکل ڈیزائن کے خلاف ہے ، دوسرا یہ کہ اسے پناہ گاہ بنائے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے

اسحق ڈار نے ہجویری ہاوس میں بنائے جانے والی پناہ گاہ کے حوالے سے کہا کہ میرے گھرمیں جہاں پناہ گاہ بنائی گئی تھی اور40 افراد کے لیے بیڈ لگائے گئے تھے ، اگرایسی جگہوں کو پناہ گاہ بنانا ہوتوپھرایک منصوبے کے تحت 400 لوگوں کوبسایا جاسکتا ہے ،

سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار نے مزید کہا کہ عوام الناس کی خدمت کا مشن پہلے ہی سرانجام دے رہے ہیں ، سالانہ ہزاروں افراد کوراش فراہم کرتے ہیں، ان کو تعلیم کےحصول کے لیے امداد فراہم کرتے ہیں ، انہوں‌نے کہا سالانہ ایک ہزار افراد کے ڈائلائسز کے اخراجات برداشت کرتے ہیں‌

اسحٰق ڈار نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بہت جلد اپنی قانونی جنگ جیت کر پھرمیں ہجویری پناہ گاہوں کا سلسلہ شروع کردوں گا، انہوں‌نے کہا کہ میں عمران خان کی پناہ گاہ منصوبے کا مخالف نہیں،دوسرا یہ کہ ایک ٹیکنیکل معاملہ ہے، یہاں پناہ گاہ نہیں بن سکتی تھی ،یہاں پناہ گاہ بنانے کے وجہ سے علاقے کے لوگوں کے مسائل بھی بڑھے ہیں‌،

اسحق ڈار نے کہا کہ ایسی پبلک جگہوں‌پر پناہ گاہیں نہیں بنائی جاتیں‌، ان کے اس غیرقانونی اقدام کی وجہ سے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ نے ان کو یہاں سے نکالا ہے، اسحق ڈار نے کہا کہ اس علاقے میں پارک کے اندر کنٹینرز لگا کرپناہ گاہ رکھی ہے ، جس کے وجہ سے اہل علاقہ ، طلباوطالبات سخت پریشان ہیں‌، اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہمارے کلچر میں رہائشی علاقوں میں ایسا نہیں ہوتا

پاکستان میں ہجویری پناہ گاہوں کے حوالے سے اسحق ڈآر نے کہا کہ وہ ٹرسٹ کے تحت یہ پناہ گاہیں ہسپتالوں‌میں قائم کریں‌گے اوراس مقصد کے لیے وہ اپنی فیملی سے ڈونیشنز وغیرہ لے کر اس سلسلے کو آگے بڑھائیں‌ گے

Leave a reply