fbpx

احتساب عدالت سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایک اور ریلیف مل گیا

احتساب عدالت سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایک اور ریلیف مل گیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی ضبطی کا حکم واپس لے کر بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی ضبطگی ختم اور بینک اکاؤنٹس کی بحالی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے اثاثے اشتہاری ہونے پر ضبط کئے گئے تھے، اسحاق ڈار سرنڈر کر چکے اور ان کے خلاف ٹرائل بھی دائرہ اختیار نہ ہونے پر ختم ہوچکا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دوران سماعت وکیل استغاثہ نے بھی کہا کہ عدالت قانون کے مطابق مناسب آرڈر جاری کر دے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کی ضبطگی کا حکم واپس لیا جاتا ہے۔ 2017 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے اثاثے ضبط کرنے کا 2017 کا حکم دیا تھا۔ اسحاق ڈار کو مفرور قرار دیئے جانے کے بعد عدالتی حکم پر اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس اور لاہور کا گھر بحق سرکار ضبط کیا گیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
یاد رہے کہ اس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکم پر ضلعی انتظامیہ نے اسحاق ڈار کے منجمد اثاثوں کو بحال کر دیا تھا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کے لیے مراسلہ بینک انتظامیہ کو ارسال کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ اسحاق ڈار کی جائیداد 7 ایچ گلبرگ تھری ہجویری ہاؤس کی سپرداری کروا دی گئی۔ ضلعی انتظامیہ کے مراسلے میں اسحاق ڈار کے اکاؤنٹ میں 50 کروڑ 79 لاکھ 48 ہزار روپے بحال کرنے کا بھی بتایا ہے۔