اسحق ڈار کی واپسی، پاکستان کی برطانیہ سے معاہدہ کیلئے نیب، ایف آئی اے و دیگر سے قانونی رائے طلب

وفاقی وزیر ریلوے شیخ‌ رشید نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسحق ڈار کو آئندہ پندرہ دنوں میں واپس لایا جائے گا جبکہ دوسری جانب حکومت پاکستان کی طرف سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی پاکستان حوالگی کے معاملے پر برطانیہ سے معاہدے کیلئے نیب، ایف آئی اے، وزارت قانون اور وزارت داخلہ سے قانونی رائے طلب کرلی گئی ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق حکومت ان دنوں‌ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کو وطن واپس لانے کے حوالہ سے بھرپور کوششیں‌ جاری رکھے ہوئے ہے. پاکستانی وزارت کارجہ نے برطانیہ سے آنے والے دنوں‌ میں‌ کئے جانے والے معاہدہ کے حوالہ سے تیارہ کردہ ڈرافٹ کو وزارت داخلہ کے پاس بھجوا دیا ہے جس پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے، نیب اور وزارت قانون سے اس ممکنہ معاہدے کے حوالہ سے قانونی رائے طلب کی ہے. حکومت برطانیہ سے اسحق ڈار کو واپس لانے کیلئے مضبوط اقدام اٹھانا چاہتی ہے اسی لئے تمام متعلقہ محکموں سے قانونی رائے طلب کی ہے تاکہ برطانیہ سے ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے.

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی جانب سے پاکستان نے درخواست پرسینیٹر اسحاق ڈار کی مشروط حوالگی پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی جس پر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی ہوئے تھے لیکن اس حوالے سےمعاہدہ نہیں‌ ہوسکا۔ واضح‌ رہے کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار قومی احتساب بیورو نیب کو مطلوب ہیں‌. سابق وزیر خزانہ کے حوالہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے انہیں‌ اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں تاہم اسحق ڈار وطن واپسی کیلئے تیار نہیں‌ ہیں‌ اس لئے حکومت کی کوشش ہے کہ برطانیہ سے معاہدہ کر کے انہیں‌ پاکستان واپس لایا جائے. اگر پاکستان اور برطانیہ کے مابین معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ تحریک انصآف حکومت کی بڑی کامیابی ہو گی اور آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کیلئے مزید پریشانی کھڑی ہو جائے گی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.