اسلام اور ویلنٹائن ڈے تحریر: ضیاء عبدالصمد

اسلام کا دوسرا نام حیاء بھی ھے۔ ویلینٹائن ڈے کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ھے نوجوان نسل مغرب کے اس کلچر کو اپناتے جارہیں اور دن بہ دن اس بے حیائی کو عام کرتے جارہیں

اس سلسلے میں سب سے پہلے

قرآنِ کریم کے متعدد مقامات پر اس بات کے واضح اشارات موجود ہیں کہ عورت کا چہرہ اور دونوں ہاتھ بھی مقامِ ستر ہیں اور ننگے منہ اس کا گلی بازار میں نکلنا جائز نہیں۔

صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر صحابیات پر رحم کرے، جب یہ حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیوں کے پلو ڈالے رہیں تو انھوں نے اپنی قمیصوں کے نیچے استعمال کی جانے والی چادروں کو پھاڑا اور ان کی اوڑھنیاں بنالیں۔

یعنی عورت کو چاہیے کہ اپنا بناؤ سنگار چھپا کر رکھے تاکہ اجنبی مرد کو نظر یں نیچی رکھنے میں مدد ملے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اور اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں تا کہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں۔
یعنی عورت پائل پہنے ہو تو اس پر حرام ہے کہ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ مرد پائل کی چھن چھن سنیں گے تو فتنے میںپڑ جائیں گے۔ عورت کے لیے جب ایسا کرنا حرام ہے تو چہر ے کو کھلا رکھنا کیو نکر جائز ہوسکتا ہے۔ مرد محض پائل کی جھنکار سن کر تو فتنے میں مبتلاہو گا لیکن کیا چہرے کی دلکشی و جلوہ سامانی اس کے ہوش نہ اڑائے گی؟
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیں

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔ مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیں
آزاد عورت کا سارا جسم ہی مقامِ ستر ہے۔ شوہر اور محرم کے سوا کسی غیر محرم مرد کو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ سوائے علاج معالجہ اور شہادت وغیرہ کی ضرورت و مجبوری کے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.