اسلام نے عورت کو ہر رشتے کی صورت میں عزت و تکریم دی، رحمت ہی رحمت سحر ٹرانسمشن

اسلام نے عورت کو ہر رشتے کی صورت میں عزت و تکریم دی، رحمت ہی رحمت سحر ٹرانسمشن

باغی ٹی وی :رحمت ہی رحمت اسپیشل رمضان ٹرانسمشن کے سحر پروگرام میں معزز مہمانان گرامی اسلام میں عورتوں کے مقام پر روشنی ڈالت ہوئے کہا کہ عورت کے مقام و مرتبے کو کم کرنے کی وجہ دراصل اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے ہے . اسلام کہ جس نے ہمیں بتایا کہ ایک ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کا کیا مقام ہے.اس نے سارے رشتوں کو بڑے احسن انداز میں بیان کردیا اور عورت کو ہر شکل اور رشتے میں عزت و تکریم بخشی. اس سلسلہ میں چار رمضان کے موقع پر چوتھے پارے میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی سکالر مولانا عبدالشکور حقانی ، علامہ سید حسین موسوی اہم نکات بیا کیے
چوتھے پارے کی مناسبت سے مولانا نے عبدالشکور حقانی نے کہا کہ چوتھے پارے کے اہم نکات چار ہیں. انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ اصل نیکی یہ ہے کہ جو چیز تمہیں پسند ہے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو ، اس میں کھانے پینے اور دیگر ہر طرح کی چیز شامل ہے . دوسری بات یہ ہے کہ اللہ نے حج کو فرض کیا ہے کہ ، یہ فریضہ اس پر ہے جو اس کی طاقت اورا ستطاعت رکھتا ہے ، اس استطاعت میں مالی ، اور جسمانی طاقت دونوں شامل ہیں. اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا فریضہ ادا کرنا چاہیے ، اس سلسے میں امر بالمعروف نہی عن المنکر کا شعبہ مقرر ہونا چاہیے جو حکومتی سربراہی میں کام کرے . اللہ نے حکم دیا کہ تم بہترین امت ہو جس کو اللہ نے لوگو ں کی بہتری کے لیے چنا ہے . اس کے بعد غزوہ احد کا واقعہ ہے جو سورۃ آل عمران کے آخر تک چلتا ہے . پھر غزوہ بدر کا نذکرہ کیا ہے.
مولانا عبدالشکور حقانی نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے ، یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں. اگر دن اچھے ہیں تو برے بھی آ سکتے ہیں ، اگر فتح مل رہی ہے توشکست بھی ہو سکتی ہے. اسی طرح ایک دن امیر ہیں اور تو غریب ہو سکتے ہو.یہ دن پھرتے رہتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اللہ نے چوتھے پارے میں اپنے نبی کی صفت بیان کی کہ اگر اپ سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے. بلکہ آپ نرم دل ہیں. اس نرمی کی وجہ سے صحابہ کرام کو معاف کیا جن سے غزوہ بدر میں ایک غلطی ہوئی تھی .
اس طرح علامہ حسنین رضا موسوی صاحب نے فرمایا کہ خواتین کا اسلام میں کیا مقام و مرتبہ کیا ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے معاشرے کا سلگتا ہوا موضوع ہے . عورت اب کسی بھی انداز میں ہو تنقید کا نشانہ بنتی ہے . پھر بدنام عورت کو کیا جاتا ہے، اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے .بیٹا رحمت ہے .اسلام نے عورت کو نو سال میں اسلامی احکام لاگو کیے ہیں. تو پھر ان لوگوں کی نفی کی جو کہتے ہیں کہ اسلام عورت کو ناقص العقل ہے . جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے. اسی طرح فرمایا کہ بیٹیاں‌ آدمی کو جنت میں لے جانے کا باعث بنیں گیں. اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دیا ہے
عورتوں کے مقام و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالشکور حقانی نے کہا کہ عورتوں کی محرومی کی وجہ دین سے دوری ہے.عورت وہ ذات ہے جس نے نبی جیسی پاک باز ہستیاں پیدا کی ہیں. .نبی کریم نے فرمایا کہ جسی تین بیٹیاں ہو ں ور اس نے ان کی اچھی تربیت کی ہو وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا.انہوں نے کہا کہ بیٹی سے اس کے رشتے کی رضا مندی ضروری ہے آج ظلم یہ ہے ہے بچیوں سے ان کی رضامندی نہیں‌لی جاتی ،جبکہ نبی کریم صلعم نے حضرت فاطمہ کے رشتے بارے حضرت علی سے کرتےہوئے ان کی رضا لی تھی .
اسی طرح سوال جواب کے سلسلے میں علامہ موسوی سے سوال پوچھا گیا کہ کیا بھائی اپنی بہن کو وراثت دے سکتا ہے جب کہ اس کی بیوی رضا مند نہ ہوں . اس کے جواب میں علامہ صاحب ن کہا کہ اگر تو باپ نے وراثت چھوڑی ہے پھرتو بیٹی یعنی بھائی کی بہن کا حق ضروری ہے . اور اگر بھائی جائداد ہے تو پھر وہ خود مختار ہے بیوی کی رضامندی کاپابند نہیں ہے .
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالشکور حقانی نے کہا کہ جو والدین کو اولڈ ہاؤس میں چھوڑ دیا جاتا ہے یہ مغرب کا تصور ہے . اسلام تو بوڑھے والدین کی خدمت کرنے کا کہتا ہے اور ایک بار دیکھنے کو حج جتنا ثواب دیتا ہے
اسی طرح علامہ موسوی نے کہا کہ کتنا المیہ ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو تو پھولوں کی طرح‌رکھتے ہیں جبکہ دوسرے کی بیٹی جب بہو کی صورت گھر لاتے ہیں تو اس پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں‌. اس نے دیور ، نند اور گھر والے سب افراد کو خوش بھ رکھنا ہے اور سب کی خدمت بھی کرنی ہے . اگر ہم دوسرے کی بیٹی کو بھی اپنی بیٹی سمجھیں‌گے تو معاشرہ ٹھیک ہو گا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.