fbpx

‏اسلام، ہم جنس پرستی اورعلما کا کردار . تحریر: نینی ملک

اسلام میں کسی بھی غیرفطری طریقے کی جنس پرستی بہت سختی سے منع ہے۔ ہم جنس پرستی کی سزا اللہ کے نزدیک اس قدر سخت ہے کہ قوم لوط کے اس عمل پراللہ نے انکی بستی کو زمیں سے اوپر اٹھا کر زمیں پر دے مارا اور ہمیں قرآن میں واضح بتا دیا کہ کس قدرنا پسندیدہ عمل ہے. اس عمل کی سزا جب مقرر کی تو اس پر حد لگا دی کہ فریقین کی رضا مندی سے کیا گیا تو فاعل و مفعل کو عبرتناک سزا دی جائے علاقے کی بلند ترین عمارت سے اوندھے منہ گرایا جائے اور پھر بھی کسی میں زندگی کی رمق باقی رہے تو اسے سنگسار کر دیا جائے۔ اس دور پر فتن میں یہ گناہ عام ہو چکا ہے کالج یونیورسٹی کے طلبا ہوں ہاسٹل میں رہنے والے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے ۔۔ جی ہاں اسلامی مدارس کے طلبا بھی اس قبیح عمل میں گرے ہیں۔

کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟؟
تو اسکی وجہ ہے ان مدارس کے وہ معلم جو خود اس گناہ میں ملوث ہیں ۔ جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں۔۔ رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.

چند ہفتے قبل ایک ایسا ہی واقعہ منظرعام پر آیا ایک معلم نے اپنے شاگرد کے ساتھ کیا پھراس پر ظلم کہ قرآن پر حلف لیا اپنی بیگناہی پر ادارہ جسے سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لے کر ایسے حیوان کے لیے اسلامی ریاست میں اسلامی سزا کا مطالبہ کرنا تھا انہوں نے فقط ادارے سے نکال کر اپنا فرض ادا کر دیا۔۔ کیا یہ اللہ کے دین سے خیانت نہیں کی گئ؟؟؟؟ صاحب ارباب نے اس حیوان کو انسانوں کی بستی میں ضمانت پر رہا کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ اسلامی ریاست جو کلمے کی نام پر بنائ گئ تھی؟؟؟ یا یہ ہے وہ ریاست مدینہ جسکا خواب عمران خان صاحب نے دیکھا تھا؟؟؟ جواب یہی ہے کہ یقینا نہیں۔

یہ خیانت ہے علما کی دین کے ساتھ ۔۔ اس اسلام کے نام پر بنی ریاست کے ساتھ کیوں وہ پاکستان میں شریعہ کے نفاذ کا فقط زبانی مطالبہ کرتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس طرح ہو گیا تو سب سے پہلے ان پر حد نافذ ہو گی۔ ایسے نام نہاد علما کو دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائےگا۔

ریاست مدینہ بنانے سب اپنا کردار نبھایئں۔۔ انصار و مہاجرین جیسی تربیت اپنی اولاد کی کریں اپنی اولاد کے قریب ہوں وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں آپکو خبر ہونی چاہیے۔۔۔۔ انکے سکول انکے مدارس میں کون ان پر مہربان ہے خدارا خبر رکھیں۔۔ جب بچے والدین سے ایسی شکایت کریں تو خدارا انکو بچے اور اساتذہ کو بڑے اور قابل احترام سمجھ کر اگنور مت کریں ۔

ریاست کی یہ ذمہ داری ہے اپنی قوم کے آنے والے معماروں کی حفاظت کریں سکول و مدارس میں کیمرے نصب کر کے انکا کنٹرول اپنی پہنچ میں رکھیں تاکہ کسی پر بھی ذہنی جسمانی یا جنسی تشدد نہ ہو پائے۔۔اگر کوئ ایسی شکایت درج کروائے اسکا فورا نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے۔
اس پرفتن دور میں آنے والی نسل کو جنسی درندوں سے محفوظ کرنے کا صرف یہی حل ہے.

Twitter handle: @NiniYmz