اسلام ہمارے تمام مسائل کا بہترین حل ہے تحریر:شمسہ بتول

0
61

اسلام کا مطلب ہے تسلیم کر لینا یعنی کہ رب کی اطاعت کرنا اور اس کے ہر حکم کو دل و جان سے تسلیم کرنا اور اسکا ایک اور لفظی معنی ” سکون“ بھی ہے۔
اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔اسلام ہمارے کردار کو اعلیٰ ، پاکیزہ اور عمدہ بناتا ہے اسلام ہمیں خدا سے خوفزدہ کرتا ہے۔ اسلام انسانی سرگرمیوں کے ہر شعبے میں تجارت ، سیاست ، ذاتی تعلقات ، تعلیم وغیرہ میں ایمانداری پر عمل کرنا ممکن بناتا ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ یہ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
ڈاکٹر اقبال شاہ نے درست کہا :
"اسلام ایک سماجی ڈھانچہ ہے ، جو ایک قانونی نظام کے ذریعے باقاعدہ اور مخصوص اخلاقی نظریات کا نام ہے”۔
اسلام اس دنیا میں ہمارے دنیاوی معاملات ، ہمارے اعمال اور اعمال کی بنیاد واضح کرتا ہے۔ یہ دنیاوی زندگی پھر ایک تیاری بن جاتی ہے دوسری دنیا کی ابدی زندگی کے لیے۔ اس جدید صدی میں اسلامی دنیا کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ، جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ مسائل آسانی سے حل نہیں ہو سکتے اور ان مسائل کو اسلامی قوانین اور ضابطوں کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اسلام ہمارے تمام مسائل کو جواز کے ساتھ حل کرتا ہے ، لیکن دور حاضر میں مسلم اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ مسلم ممالک کو درپیش مساٸل کو باہمی اتفاق راۓ سے حل کیا جا سکے۔
لیکن افسوس مسلم اتحاد فرقوں ، نسلوں اور رنگوں کے فرق میں پھنس گیا ہے۔ اس طرح بہت سے مذہبی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہم آہنگی ، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہیے۔ خدا نے قرآن پاک میں کہا ہے "اور تم لوگ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“
ہمارے سیاسی مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔ہمیں ایک منظم سیاسی نظام کی ضرورت ہے اور اسلام سے بہتر منظم سیاسی و معاشی نظام کی مثال کہیں نہیں ملتی مگر ہم اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں جسکی وجہ سے ہمیں دسواٸی و زلت کا سامنا ہے دیگر اقوام کے سامنے۔
اسلامی ریاست میں اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے اور تمام حکمران اللہ کے ایجنٹ ہیں اسلیے دیانتداری اور ایمانداری سے ریاست کے تمام فراٸض ادا کریں۔
کشمیر ، فلسطین ، اور ہندو مسلم کے حالیہ سیاسی مسائل کو اسلامی قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر انسانی حقوق کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ وہ ایک معاشرے میں رہتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہو تو وہاں بہت سی دوسری برائیاں اور خطرناک مسائل ابھر سکتے ہیں ۔ اگرچہ اسلامی ممالک ماضی کے مقابلے میں جدید اور مہذب ہیں پھر بھی لوگ انتشار ، نفرت اور رنگ و نسل میں فرق، زات پات کا فرق، اور دیگر تباہ کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مسائل خودغرضی ، منافقت، اقربا پروری ، رشوت ، بے حیائی اور فحاشی سے پیدا ہوتے ہیں اسلام لوگوں کو ان تمام منفی اقدار سے منع کرتا ہے۔ اگر لوگ اسلامی قوانین اور قوانین پر عمل کریں تو وہ ان تمام سماجی مسائل کو حل کر سکیں گے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، لیکن بدقسمتی سے بہت سےاسلامی ممالک اپنے مذہبی تنازعات کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ اگرچہ بہت سے اسلامی ممالک خوشحال ہیں اور مضبوط معاشی اور انفرادی قوت رکھتے ہیں پھر بھی وہ معاشی مسائل کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جیسے کہ اسمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی اور خام مال کی تجارت وغیرہ۔
اسلام نے بین الاقوامی سطح پر بھی سیاسی ، سماجی اور معاشی مساٸل کو حل کرنے کے لیے ایک بہترین فریم ورک دیا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی اقتصادی بلاک کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ دوم ، ان تمام معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے بے لوث ، عقیدت مند اور تجربہ کار ماہر معاشیات کو فروغ دینا ہوگا۔
آج کل ہمارا معاشرہ تعلیمی مسائل سے دوچار ہے۔ تعلیم دوسری قوموں کی نظر میں انسانی وقار کو فروغ دینے کی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نئے اور جدید نصاب کی وجہ سے ہم اسلامی کتابوں میں دلچسپی نہیں لے رہے یہاں تک کہ بعض اوقات ہمارے اساتذہ اسلامی قوانین کی روشنی میں سماجی ، اقتصادی ، اخلاقی یا دیگر مسائل کے حل کی وضاحت نہیں کرتے۔ لہذا مذہبی اور عمومی علوم کے درمیان توازن ہونا چاہیے ۔اسلام نے ہمارے سائنسی مسائل حل کیے ہیں۔ ماضی میں مسلمان سائنسدان قرآن مجید کی بنیاد پر بہت سی سائنسی چیزیں ایجاد کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ مغربی سائنس دان بھی اسلامی الہامی کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نئی ایجادات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہاں تک کے اسلام زندگی کے ہر پہلو کے متعلق راہنماٸی دیتا ہے۔
محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا: ” کہ مجھے اخلاقیات کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے“
اخلاقی رویے کا معاشرے پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردانہ اور عقیدت مند ہونا چاہیے۔ اسلام منع کرتا ہےلوگوں کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے۔ اب ہمارے معاشرے میں سب سے بڑھتے ہوئے مسائل مغرب کی ثقافت اور آداب کی موافقت ہیں۔ اس طرح ہماری تعلیم ، سیاست ، معیشت ، معاشرہ ، فن وغیرہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح اسلام مسلمانوں کو اسلامی روایات اور رسومات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام حقیقی امن ، انصاف اور مساوات کا مذہب ہے ۔ یہ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے حق کے احترام کے بارے میں واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ایک حقیقی اور ترقی یافتہ اسلامی ریاست کی مثال ہمیں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم اور ان کے بعد چاروں خلفاۓ کرامؓ کی زندگی سے ملتی ہے اسلامی ریاست کے حکمرانوں کو ان ہستیوں کا مطالعہ کرنا ہو گا تا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ ریاست کی بنیاد رکھ سکیں ۔ یہ ہمیں اس دنیا کے ساتھ ساتھ اگلی دنیا میں بھی کمال کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے✨

‎@b786_s

Leave a reply