fbpx

اسلام میں عورت کا مقام تحریر: فیضان مشتاق

جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ہللا تعالی اس کے ہاں فرشتے بیچتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں
اے گھر والوں !تم پر سالمتی ہو "وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس”
کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو
اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی
کون کہتا ہے اسالم نے عورت کو قید کر رکھا ہے
کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو وہ مقام نہیں دیا
کون کہتا ہے کہ اسالم نے عورت کو آزادی نہیں دی
جی اسالم نے عورت کو گھر کی زینت بنایا ہے
گھر کی عزت بنایا ہے
گھر کی رانی بنایا ہے
جب اسالم آیا حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم تشریف الئے تو آپ نے عورت کو ذلت اور پستی کی
گہرائیوں سے اٹھایا اور اسے عظمت و رفعت کے بلند مقام پر فائز کیا کر دیا اور فرمایا کہ ہللا نے
تین چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈال دی خوشبو عورت اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
اسالم کے عالوہ اور کوئی مذہب نہیں
جس نے اچھی بیوی کو آدھا ایمان قرار دیا ہو جس نے بیواؤں کو عزت کی مسند پر بٹھایا ہو جس
نے عورت کے حسن و جمال کو نہیں اس کے عورت ہونے پر قابل فخر ٹھہرایا ہو
عورت کی نمایاں شخصیتیں چار ہیں
بیٹی ہونے کی حیثیت
ماں ہونے کی حیثیت
بیوی ہونے کی حیثیت
بہن ہونے کی حیثیت
ان 4 حیثیت کے اعتبار سے جو عزت و عظمت محبت اسالم نے عورت کو دی ہے دنیا کسی جدید و
قدیم قانون اور مذہب نے نہیں دی
اسالم نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے
جب بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کے دروازے کھولتی ہے
بہن :حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ان
کے ساتھ اچھا سلوک .کرے تو وہ جنت میں جائے گا
بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دن مکمل کرتی ہے
اور جب ماں کا درجہ پر فائز ہوتی ہے تو تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے
حضور پاک صلی ہللا علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں اور وہ ان کے ساتھ حسن
سلوک کرے اور ان کی
پرورش کرے تو وہ دو لڑکیاں اس کو جنت میں لے کر جائے گی
پچھلی صدیوں میں مختلف معاشروں کے مطابق خواتین کا مطلب کچھ بھی نہیں وہ ان کا احترام
بھی نہیں کرتے تھے اور یہاں تک کہ ان کو بطور انسان کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا لیکن اسالم
میں خواتین کا احترام اور مساوات دونوں ہیں
یونین کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے
سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کے نہیں
یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جال دیا گیا تھا
دور جہالت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا
ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
لیکن محسن انسانیت رحمۃاللعالمین حضرت محمد صلی ہللا علیہ وسلم کے عورت کے بارے میں
ارشادات مالخطہ فرمائے
قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے
پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے وہ کہے گی میں ایک بیوہ
عورت ہوں میرے چند یتیم بچے ہیں .جس نے اپنے رب کی ہدایت اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر
کی خوبیاں بیان کرتی ہے
اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو اور جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک
درجہ ہوگا
جو اور ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنےیتیم بچوں کی تربیت کی خاطر نکاح نہ
کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہیں
عورت پر مرد کے فضیلت
مرد عورت سے چند وجوہات کی بنیاد پر بہت افضل ہے
مرد پر جہاد فرض ہے عورت پر سوائے سخت ضرورت کے فرض نہیں
مرد کی ذمہ داری عورت کا سارا خرچہ ہے عورت کی ذمہ مرد کا خرچ نہیں
مرد کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر نہیں جاسکتی مرد پر یہ پابندی نہیں
اسالم سے پہلے عورت بحیثیت ماں یا بہن
اسالم سے پہلے ایک فرقہ کافروں کا وہ تھا جو مجوسی کہالتا تھا تمام محرمات سے ان کے نزدیک
نکاح جائز ہوتا تھا یہاں تک کہ وہ ماں اور بہن سے نکاح کرنے کو بھی جائز قرار دیتے تھے
اسالم سے قبل سوتیلی ماں کی قدر و منزلت کچھ نہ تھے عرب میں یہ طریقہ سے صدیوں سے
رائج تھا کہ خاوند مرنے کے بعد اس کا لڑکا اپنے باپ کی جائیداد کی طرح اس کی بیوی اپنی
سوتیلی ماں کا بھی وارث ہوتا
مدینہ منورہ میں اسواد ابن خلف نے اپنے باپ خلف کی بیوی اور صفوان ابن امیہ ابن خلف نے اپنے
باپ امیہ کی بیوی فاختہ بنت اسواد ابن مطلب اور منظور ابن ریان نے اپنے باپ ریان کی بیوی ملکہ
بنت خارجہ سے ان کی موت کے بعد نکاح کر لیے

@FAIZAN_BHATTI42