fbpx

اسلام اور جدید سائنس تحریر :صفدر حسین

اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں پیدا کی ہیں۔ قرآن اس دنیا کے انسانوں کے لئے مکمل ظابطہ حیات ہے۔قرآن مجید کے صحیح معنوں کو سمجنے کیلئے ہمیں قرآنی آیات میں موجود سائنسی حقائق پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل کی اس میں بنی نوع انسان کو علم حاصل کرنے اور آفاق اور زمین کی گہرائیوں میں غور کرنے کا حکم دیا۔اسلام کے احکامات پر عمل کر کے دنیا کی وہ قوم جس پر کوئی بھی حکمران حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا اس نے صرف ایک صدی کے اندر دنیا بھر کی امامت کی اور یونانیوں کے لا حاصل فلسفے کو ختم کرتے ہوئے فطری علوم کی تجربے کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے انسانی علم نے عظیم کروٹ لی اور جس کاپھل موجودہ صدی نےپایا ۔
ممکن کو حقیقت کا روپ اس وقت ملتا ہے جب صدی کروٹ بدلتی ہے موجودہ نسل نے جو منزلیں عبور کی ہیں اس کی پچھلی صدی نے خواہش بھی نہیں کی تھی۔سانس کی اس قدر تیزی نے اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کو انسان کے سامنے لا کھڑا کیا یے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسان کے ذہین میں علم کی موجودہ عروج کے بارے میں ادنی سا تصور بھی نہیں تھا ۔وہ اپنی جہالت کو عظمت کی علامت سمجتا تھا جس کو اسلام کی آفاقی تعلیمات نے ختم کیا اور فطری ضوابط کو بےنقاب کیا جس پر دور حاضر کا سائنسی ذہین بھی محو حیرت ہے۔
مسلمان سائنسدانوں نے جس سائنسی علم کی بنیاد رکھ اس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے جس کو موجودہ دور میں استمعال کرتے ہوئے بے شمار فوائد حاصل کیے ہیں ۔مسلمان جب تک علم حاصل کرتےاور اس پر عمل کرتے ریے وہ دنیا میں امام و مقتدر ریے اور جیسے ہی اس علم سے دوری اختیار کی ہم آسمان سے زمین پر آگرے اور حالت ہہ ہے کہ ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھے ہوئے تھا غیروں کا اوڑھنا بچھونا ہے اور ہم ان سے علمی،ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں بھیک مانگتے ھوئے نظر آتے ہیں ۔
بیسویں صدی میں مسلمانوں نے سیاسی آزادی حاصل کی اور علمی میدان میں بھی مثبت تبدیلی کے آثار نمودار ہوئے مگر مسلمان حکمرانوں نے آزادی کے اثرات کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا اور ان کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ۔مسلمان ممالک دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ہیں اور دنیا کی اکانومی کا اس پر انحصار ہے جس سے مسلمانوں کی معاشی زندگی بہتر ہوتی اور عالمی سطح پر سیاسی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی تھی لیکن وہ اپنی عیاشی میں مصروف رہے اور امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا .
دور حاضر کے مسلم نوجوان کے ایمان کو سنبھالا دینے کی واحد صورت یہ ہے کہ اسے اسلامی تعلیمات کی عقلی و سائنسی تفسیر و تفہیم سے آگاہ کرتے ہوئے سائنسی دلائل کے ساتھ مستحکم کیا جائے۔ قومی سطح پر چھائے ہوئے احساس کمتری کے خاتمے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو مسلمان سائنسدانوں کے کارناموں سے شناسا کیا جائے تا کہ اس کی سوچ کو مثبت راستہ ملے اور وہ جدید سائنسی علوم کو اپنی متاع سمجھتے ہوئے اپنے اسلاف کی پیروی میں علمی و سائنسی روش اپنا کر علمی بنیادوں کے ساتھ احیائے اسلام کا فریضہ سرانجام دے سکے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ سائنسی علوم جانتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی تعلیمات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مستشرقین کی طرف سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے ٹھوس عقلی و سائنسی بنیادوں پر جواب کے لئے جدید علم کلام کو باقاعدہ فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف مغربی افکار کی یلغار کی وجہ سے مسلم نوجوانوں میں اپنے عقائد و نظریات کے بارے میں جنم لینے والے شکوک و شبہات سے نجات ملے گی بلکہ غیر مسلم اقوام پر بھی اسلام کی حقانیت عیاں ہو گی۔

@itx_safder