fbpx

‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ ہی سپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے ۔کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کومحسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہو چکا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچا نک کایا پلٹ گئی اور اسلام پر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ عالم اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافت عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کومحسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز سے اسلامی علوم وفنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہو گیا تھا لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستاره اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو سفر کر رہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنالیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا، تا کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافت عثمانی کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعار کا تسلط ہوا، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقیناً شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی، لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوت تسخیر نے شکست تسلی نہیں کیا اور اس نے اہل یوروپ وان مریکہ کے قلوب کومسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان بھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیاز کے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے، بلکہ مساجد و ن مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنامدعو بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہے امریکی مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ اور یورپ میں تقریبا پانچ کروڑ ہورہی ہے ۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔
اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ ۃشا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ”آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ، بلکہ پورے یورپ پرحکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت ونمو کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ج ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، جو اس کو ہر زمانہ میں قابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابل قبول ہو گا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابل قبول ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فرانس کے طالع آزماسکندر مانیپولین بوناپارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اورتعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا۔ قرآن کے یہی اصول ہی میں صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئیندہ ۳۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی وغیرہ۔
اہل یورپ پر ان کی خوف چھایا ہوا ہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہل مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ اسلاموفوبیا کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیات اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔ غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔ اسلام کا بھی روحانیت کا سرچشمہ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بناسکتا ہے۔
Twitter | ‎@IhsanMarwat_786