fbpx

اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کو جلد نمٹائے، نور مقدم کے والدین کی استدعا

اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کو جلد نمٹائے، نور مقدم کے والدین کی استدعا

نور مقدم کے والدین نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیس جلد نمٹانے کی استدعا کر دی

نور مقدم کے والدین نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی نورمقدم کیس کا فیصلہ کرے ،نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور والدہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا گفتگو کی ہے ،جس میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ نورمقدم چلی گئی، ہم نے بہت تکلیف برداشت کی نور مقدم کے جانے سے جو تکلیف اٹھائی بیان نہیں کر سکتا ہماری درخواست ہے کہ ہائی کورٹ بھی نور مقدم کیس کا فیصلہ جلد کرے،

واضح رہے کہ نور مقدم قتل کیس سے متعلقہ اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج پھر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، جسٹس عامر فاروق کی عدالت کی آج کی کاز لسٹ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے کینسل کردی گئی

قبل ازیں کورٹ رپورٹر،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور والدہ بھی آج اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن پریس روم میں فیاض محمود اور میری ریکوئسٹ پر آئے وہاں دوستوں نے میری برتھ ڈے کیک کٹنگ رکھی تھی وہ بھی اس میں شامل ہوئے ان کو بیٹی کے بغیر بہت غمزدہ دیکھا ہے اللہ تعالیٰ ان کو صبر عطا فرمائے آمین

قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے ،

قبل ازیں نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے فیصلہ سنایا،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا ،کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ،نورمقدم کے والد شوکت مقدم بھی فیصلہ سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے کمرہ عدالت میں وکلاء اور میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، عدالت کے باہرپولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،جب فیصلہ سنایا گیا تو نور مقدم کا قاتل ظاہر جعفر بھی عدالت میں موجود تھا،

:کس کوکیوں اورکتنی سزا دی ؟ نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ،

نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل