fbpx

عدالت کو آئینی حدود دیکھنا ہوگی،نیب ترامیم کیخلاف درخواست پر عدالت کے ریمارکس

سپریم کورٹ ،نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے،مخدوم علی خان کی جانب سے اسلامی اسکالرز اور امریکن میگزین کے آرٹیکلزکی مثالیں پیش کی گئیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ قانون کی حدود میں رہ کر عدالت معاملے کو دیکھے،شیڈول 4 میں سب چیزیں واضح ہیں، کسی کی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر چیزیں طے نہیں کی جا سکتیں،یہ پارلیمنٹ کا استحقاق ہے کہ قانون سازی کرے، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ غیر قانونی ہورہا ہو تو وہاں مداخلت کی جا سکتی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر کچھ غیر قانونی ہے تو یہ درخواست گزار نے ثابت کرنا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آئینی حدود دیکھنا ہوگی،نیب ترامیم کیخلاف درخواست کی سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی گئی

اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔