fbpx

1400 اسکوائر میل اسلام آباد میں صرف اشرافیہ کا قبضہ،ریاست نام کی چیز سِرے سے ہی نہیں،عدالت

1400 اسکوائر میل اسلام آباد میں صرف اشرافیہ کا قبضہ،ریاست نام کی چیز سِرے سے ہی نہیں،عدالت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھرہونے والے شہریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت اور سی ڈی اے پر ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہارکیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پر دباوَ نہیں ہوتا، کس نے کہا ہے کہ ریاست پر پریشر ڈالا جا سکتا ہے، جب کرپٹ ہو جائے تو اس پر پریشر ڈالا جا سکتا ہے ،کس کی ورنہ جرات ہے کہ ریاست پر پریشر ڈالے، بااثر لوگوں نے معاوضے بھی لے لیے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیوں عام شہریوں کو معاوضہ ملا نہ متبادل پلاٹس ؟ نیب سے پلی بارگین کرنے والے کرپٹ بھی بعد میں سرکاری پلاٹس لے جاتے رہے، عدالت نے دیکھا کہ اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سِرے سے ہی نہیں ہے، 1400 اسکوائر میل اسلام آباد میں صرف اشرافیہ کا قبضہ ہے، اسلام آباد کے منتخب نمائندوں کو شامل کر کے کمیشن بنایا وہ بھی مسائل حل نہیں کر سکے ،سی ڈی اے صرف ایف سکس اور ایلیٹ کلاس کی خدمت میں لگی ہے ،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک پارلیمنٹ ، دو اعلیٰ عدالتیں اس شہر میں ہیں پھر قانون کا یہ حال کیوں؟ یہ عدالت سمجھنا چاہتی ہے کہ کیا صرف اسلام آباد میں ہی اتنی ناانصافی ہے،سی ڈی اے صرف غریب کا کھوکھا گرا سکتا ہے طاقت ور کا گھر تو ریگولرائز ہو جاتا ہے،مزدور سب سے زیادہ بے گھر تھا اس کو پلاٹس کیوں نہ ملے؟

وکیل ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے عدالت میں کہا کہ نیا پاکستان ہاوَسنگ اسکیم میں اب گھر دیئے جا رہے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ پارلیمانی اراکین کو پلاٹوں کی ا سکیم میں شامل کیوں نہیں کرتے؟ وکیل نے کہا کہ پارلیمانی اراکین نے قائدِاعظم یونیورسٹی کے ساتھ اسکیم شروع کی تھی، عدالت نے کہا کہ اگر ارکان پارلیمنٹ ا سکیم شروع کریں تو کیا کرپشن ہو جاتی ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کا راول جھیل کے قریب کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم

آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

علیم خان اتنے بااثرکہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

کوئی ایم پی اے ہے یا وزیر؟ قانون سے بالاتر نہیں،علیم خان اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت نہیں تورا بورا ہے،وفاقی ادارے اسٹیٹ ایجنٹ بنے ہوئے ہیں،عدالت کے ریمارکس

تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

اگر کلب کوریگولرائزکر دینگے توجو عام آدمی کا گھربن گیا اس کو کسطرح گرا سکتے ہیں؟ عدالت

وفاقی ترقیاتی ادارے کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے،عدالت کا برہمی کا اظہار

لوگوں سے باپ دادا کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں،ریاستی ادارے کرپشن میں ملوث ہیں، عدالت