fbpx

شوکاز نوٹس میں پی ٹی آئی کو اپنے دفاع کا مکمل موقع دیا جانا چاہیے،عدالت

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار لارجر بنچ کا حصہ تھے،پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے اپنے دلائل کا آغازکیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکاز نوٹس میں پی ٹی آئی کو اپنے دفاع کا مکمل موقع دیا جانا چاہیے، اگر جواب دینے کا مناسب موقع نہیں دیا جاتا پھر تو شوکاز کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے، پی ٹی آئی جو موقف دے گی اسکو شواہد کے ساتھ ثابت بھی کرنا ہو گا،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے جواب کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہو گا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکاز نوٹس کی کارروائی مکمل طور پر ایک مختلف کارروائی ہے، سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آ گئی اور بات ختم، ایسا نہیں ہو گا، شوکاز نوٹس کا جواب آنے کے بعد ہی فیصلہ ہو گا،متعلقہ اتھارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ شوکاز نوٹس پاس ہو گا یا فیل، اگر رپورٹ ہی فائنل ہے تو الیکشن کمیشن شوکاز بھی نہ دے جو کرنا ہے کر لیں، سکروٹنی کمیٹی کی فائنڈنگز درست ہیں یا غلط یہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا ہے، ڈی جی الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی کو کم از کم شوکاز نوٹس کا جواب بھی تو دینا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹ فائنل ہو اور اوپن اینڈ شٹ کیس ہو تو پھر تو بات ہی ختم ہو گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈی جی الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکے گزشتہ سماعت کے بیان سے لگا کہ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے،

وکیل انور منصور نے کہا کہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانا ہمارے لئے مسئلہ نہیں ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ ایک رپورٹ ہے فیصلہ نہیں، الیکشن کمیشن کی پروسیڈنگز پر اس وقت کوئی آبزرویشن نہیں دینگے، الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے انہوں نے خود ہی کارروائی چلانی ہے، ایک چیز ابھی الیکشن کمیشن میں طے ہونی ہے تو یہاں کیس کیا ہے؟ انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن موجودہ قانون کے تحت یہ کارروائی کر سکتا تھا یا نہیں، یہ مسئلہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن نے جو آخری جملہ لکھا ہے اس سے مسئلہ ہے، جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خدشہ ہے شوکاز میں پی ٹی آئی تاخیری حربے آزمائے گی؟ ان کے اس پہلو کو اسلام آباد ہائیکورٹ بھی دیکھے گی،

ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور